’امریکہ بھارت پر اعتماد کر سکتا ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی وزیرِ اعظم من موہن سنگھ نے امریکی کانگریس سے کہا ہے کہ جہاں تک جوہری ٹیکنالوجی کا تعلق ہے، امریکہ بھارت پر اعتماد کر سکتا ہے۔ منگل کو امریکی صدر جارج بش نے کہا تھا کہ وہ کانگریس پر زور دیں گے کہ وہ بھارت کے عام شہریوں کے فائدے کی جوہری ٹیکنالوجی پر عائد امریکی پابندیوں کو اٹھا لے۔ من موہن سنگھ نے امریکی کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اور امریکہ کو مشترک جمہوری اقدار اختیار کرتے ہوئے تجارت کو فروغ دینا چاہیے اور دہشت گردی سے نمٹنا چاہیے۔ نامہ نگاروں کا خیال ہے کہ بھارتی وزیرِ اعظم کا دورۂ امریکہ ایک نئے سفارتی منظرنامے پر بننے والے اس اہم اتحاد کو مستحکم کرے گا۔ منگل کو امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کا موقع حاصل کر کے بھارتی وزیرِ اعظم امریکہ کے بااعتماد حلیفوں کے ایک چھوٹے سے گروپ کا حصہ بن گئے ہیں۔ من موہن سنگھ نے امریکی قانون سازوں سے کہا کہ سول نیوکلیئر توانائی کے میدان میں دونوں ممالک تعاون کر سکتے ہیں۔ بھارتی وزیرِ اعظم نے کہا کہ انڈیا نے جوہری ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ پر نظر رکھنے والے تمام بین الاقوامی قوانین کا پاس کیا ہے حالانکہ ’ہم نے دیکھا ہے کہ ہماری ہمسائیگی میں جوہری پھیلاؤ پر کوئی پابندی نہیں ہے۔‘ مبصرین کہتے ہیں کہ من موہن سنگھ کی اس بات سے ان کا اشارہ پاکستان کی طرف تھا۔ بھارت اور پاکستان نے انیس سو اٹھانوے میں جوہری تجربات کیے تھے جس کے بعد امریکی نے دنوں ممالک کی مذمت کی تھی اور ان ممالک پر پابندیاں عائد کر دی گئی تھیں۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کے ساتھ جوہری ٹیکنالوجی کے تبادلے پر صدر بش کی رضا مندی امریکی خارجہ پالیسی میں ایک اہم تبدیلی کی آئینہ دار ہے۔ من موہن سنگھ نے کانگریس کو بتایا کہ امریکہ اور ان کے ملک میں کئی باتوں پر اشتراک ہے۔ ’ آپ دنیا کی قدیم ترین جمہوریت ہیں تو ہم دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہیں۔‘ انہوں نے کہا ’یہ ہمارے معاشروں کا کھلا پن ہی ہے کہ ہم دہشت گردی کی زد میں جلدی آسکتے ہیں۔‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی کو چاہیے کہ وہ بھارت میں خاص طور سے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں سرمایہ کاری کرے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||