مسجد کی مرمت، سعودی پیشکش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبداللہ نے دلی کی تاریخی جامع مسجد کی مرمت کے لیے امداد دینے کی پیش کش کی ہے لیکن حکومت اسکے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔ جامع مسجد کے امام سیّد احمد بخاری نے بھی اسکی تصدیق کی ہے۔ دلی کی تاریخی جامع مسجد کی مرمت کے لیے سعودی حکومت کی امدادی پیش کش بحث کا ایک نیاموضوع ہے۔ وزارت خارجہ کی معمول کی پریس کانفرنس میں اسی کے متعلق زیاد تر سوالات کیے گیے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نوتیج سرنا نے صرف اتنا کہا کہ ’ہمیں یہ پیش کش موصول ہوئی ہے اور اسکے تمام پہلوؤں کی متعلقہ ایجینسیوں سے چھان بین کروائی جائیگی‘۔ جامع مسجد کے امام سیّد احمد بخاری سے جب اسکے متعلق پوچھا گیا تو انکا کہنا تھا کہ ’یہ پیش کش انہیں ملی تھی اور انہوں نے ہی سعودی حکام سے حکومت ہند سے رابطہ کرنے کو کہا تھا۔ سعودی حکام نے حکومت سے رابطہ کیا ہے اور اب یہ ان پر ہے کہ وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں‘۔ احمد بخاری کا کہنا تھا کہ قدیمی مسجد کی حالت دن بدن بوسیدہ ہوتی جارہی ہے اور مرمت کے لیے ایک بڑی رقم درکار ہے۔ انہوں نہ کہا کہ ’اسکے پتھر خراب ہوگئے ہیں۔ بعض مینار گرگئے ہیں اور بعض گرنے والے ہیں۔ اسکے علاوہ اس کا پینٹ بھی ختم ہو چکا ہے اسکے لیے ایک بڑی رقم چاہیے‘۔ سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبداللہ چھبیس جنوری کے روز یوم جمہوریہ کی تقریبات میں شرکت کے لیے ہندوستان آ رہے ہیں۔ وہ اس تقریب میں حکومت ہند کے خصوصی مہمان ہیں۔ اپنی آمد سے قبل انہوں نے ستّرہویں صدی کی اس تاریخی عمارت کی درستگی کے لیے امداد کی پیش کش کی ہے۔ لیکن حکومت اسکے بارے میں تذبذب میں مبتلا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سفارتی سطح پر سعودی عرب کی اس پیش کش کو نظر انداز کرنا مشکل ہے۔ ماضی میں اس طرح کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں کہ سعودی عرب سے آنے والی رقم کا استعمال شدت پسندی کے لیے کیا گيا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ حکومت اس معاملے میں پھونک پھونک کر قدم رکھ رہی ہے۔ |
اسی بارے میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||