’ابو سالم نے اقرار جرم کرلیا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی شہر ممبئی میں پولیس کا کہنا ہے کہ ابو سالم نے انیس سو پچانوے میں ملک کے ایک معروف آرکیٹیکٹ کے قتل میں ملوث ہونے کا اقرار کرلیا ہے۔ ابو سالم انیس سو ترانوے میں ہونے والے بم حملوں کے اہم ملزم ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابو سالم نے بتایا ہے کہ انہیں ندامت کا احساس ہے۔ تاہم ا ن کے وکیل دفاع او اے صدیقی کا کہنا ہے کہ یہ اقرار جرم عدالت کے لیے قابل قبول نہیں ہے کیونکہ یہ بیان ان کے موکل پر دباؤ ڈال کر دلوایا گیا ہے۔ وکیل کا یہ بھی کہنا ہے کہ ابو سالم کے ساتھ بدسلوکی کی گئی ہے۔ ابو سالم کو پرتگال میں گرفتار کیا گیا تھا جہاں وہ اپنی دوست مونیکا بیدی کے ساتھ رہ رہے تھے۔ انہیں پرتگال سے ملک بدر کرکے اس شرط پر بھارت کے حوالے کیا گیا تھا کہ انہیں سزائے موت نہیں دی جائے گی۔ ابو سالم پر قتل، اغوا، تاوان وصول کرنے اور دہشت گردی کے کئی الزامات ہیں۔ انہیں منگل کو مختصر وقت کے لیے عدالت کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔ ان کی اگلی پیشی کے لیے اکتیس جنوری کی تاریخ رکھی گئی ہے۔ اس دوران وہ عدلیہ کی تحویل میں رہیں گے۔ 1993 کے بم دھماکوں میں 250 سے زائد لوگ ہلاک اور ایک ہزار سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ دوسری جانب جنوبی ریاست آندھرا پردیش کی ایک عدالت نے مونیکا کا ریمانڈ لیا ہے۔ سی بی آئی کے حکام مونیکا سے جعلی پاسپورٹ رکھنے کے الزام میں پوچھ گچھ کررہے ہیں۔ مونیکا کو حیدر آباد کی چنچل گدا جیل میں رکھا گیا ہے۔ | اسی بارے میں ابو سالم کی حوالگی کا حکم19 July, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||