حراست میں جان کو خطرہ: ابوسالم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مافیہ سرغنہ ابو سالم نے آج ممبئی کی ٹاڈا عدالت میں خدشہ ظاہر کیا کہ ممبئی کی کرائم برانچ کی حراست میں ان کی جان کو خطرہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس انہیں اذیت دے سکتی ہے اس لپے حراست کے دوران انہیں روزانہ اپنے وکیل سے کم از کم پانچ منٹ ملنے کی اجازت دی جائے۔ سینٹرل بیورو آف انویسٹیگیشن (سی بی آئی) نے آج عدالت میں کہا کہ اب اسے ملزم ابو سالم کی تحویل کی ضرورت نہیں ہے اس لیے جج پی ڈی کوڈے نے ابو سالم کو عدالتی تحویل میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔ ممبئی پولیس کو ابو سالم، اجیت دیوانی اور پردیپ جین قتل کیس میں مطلوب ہے اور پولیس نے ابوسالم کی تحویل کے لیے سیشن کورٹ کے ٹاڈا جج باؤکر کے سامنے اپیل داخل کی تھی۔ ممبئی پولیس اپنی تحویل میں ابوسالم سے ان دونوں مقدمات کی تفتیش کرے گی اسی لیے ابوسالم نے جج سے درخواست کی کہ انہیں اپنے وکیل سے روزانہ ملنے دیا جائے۔ انہیں پولیس کی جانب سے تشدد کا ڈر ہے۔ جج نے ابوسالم کی درخواست قبول کر لی اور انہیں ان کے تینوں وکلاء اشوک سروگی، اویس صدیقی اور رشید انصاری سے روزانہ صبح آٹھ بجے سے نو بجے کے درمیان ملنے کی اجازت دے دی۔ بم دھماکہ کیس کے تمام ملزمان نے پولیس حراست کے دوران جو بھی بیان دیا تھا، عدالت کے سامنے اس سے مکر گئے تھے اور کہا تھا کہ جو بھی بیان انہوں نے دیا تھا وہ پولیس کی اذیت کی وجہ سے گھبرا کر دیا تھا۔ بھارتی قوانین کے مطابق ملزم عدالت میں پولس کو دیے گئے بیان سے انحراف کر سکتا ہے۔
ابو سالم کو سات دسمبر تک عدالتی تحویل میں ممبئی کے آرتھر روڈ جیل میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ ابوسالم اور ان کے وکلاء نے ابوسالم کی زندگی کو حریف گینگ سے خطرہ ظاہر کیا ہے اس لیے ان کے لیے ایک خصوصی سیل تیار کیا گیا ہے جہاں انہیں ہائی سیکوریٹی میں رکھا جائے گا۔گھر کا کھانا ، بستر اور دوائی دی جائےگی جبکہ آرتھر روڈ جیل میں کسی زیر سماعت قیدی کو یہ ساری سہولتیں میسر نہیں ہیں۔ آرتھر روڈ جیل میں کئی مافیا گروہوں کے ممبر قید ہیں جن میں داؤد گینگ اور چھوٹا راجن گینگ شامل ہیں۔ اہم گینگ کے قیدیوں میں جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں اور ابوسالم کو اسی لیے اپنی جان کا خدشہ ہے۔ آرتھر روڈ جیل کے ہی احاطے میں سلسلہ وار بم دھماکہ کے دیگر تینتیس ملزمین گزشتہ بارہ برسوں سے قید ہیں۔ ابوسالم نے سی بی آئی کے سامنے اپنا اقبالی بیان ریکارڈ کرا دیا ہے اور اس کی سربمہر کاپی جج کوڈے کے سامنے پیش کی گئی ہے۔ ابوسالم کے وکیل اشوک سروگی نے عدالت کے سامنے بے اطمینانی کا اظہار کیا اور اس بیان کی کاپی کا مطالبہ کیا۔ سروگی نے بی بی سی کو بتایا کہ بیان ریکارڈ کرنے سے ایک روز قبل تک وہ ابو سالم سے ملے تھے اور اس نے کسی طرح سے بھی بیان دینے کے بارے میں کوئی بات نہیں کی تھی اس لیے انہیں اس بیان پر شبہ ہے۔ ابو سالم کے چچا زاد بھائی ایڈوکیٹ رشید انصاری نے جو لکھنؤ سے ممبئی ابوسالم کی وکالت کرنے آئے ہیں بتایا کہ ابو سالم کے بھائی ابوالیث اس وقت ممبئی میں موجود ہیں لیکن انہیں بھی جان کا خطرہ ہے اس لیے وہ عدالت کے سامنے حاضر نہیں ہوتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ ممبئی پولس ابوسالم کی تحویل لینے میں کامیاب ہو دہشت گرد مخالف اسکواڈ (اے ایس ٹی) کے سربراہ جے جیت سنگھ نے عدالت کے سامنے ابوسالم کی تحویل کا مطالبہ کر دیا۔ |
اسی بارے میں ابو سالم کی حوالگی کا حکم19 July, 2004 | انڈیا ابو سالم اور مونیکا انڈیا کے حوالے10 November, 2005 | انڈیا ابو سالم ریمانڈ پر پولیس کے حوالے11 November, 2005 | انڈیا ابو سالم کے بعدمونیکا کا ریمانڈ12 November, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||