ابو سالم ریمانڈ پر پولیس کے حوالے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے سینٹرل بیورو آف انوسٹیگیشن (سی بی آئی )جمعہ کی صبح کو سب سے زیادہ مطلوب مافیا سرغنہ ابو سلیم انصاری عرف ابوسالم اور ان کی ساتھی مونیکا بیدی کو برتگال کے شہر لزبن سے ایک خصوصی طیارے کے ذریعے ممبئی لانے میں کامیاب ہو گئی۔ دوپہر کو ابو سالم کو بم دھماکوں کی خصوصی عدالت میں پیش کیا گیا اور عدالت نے انہیں تئیس نومبر تک پولیس ریمانڈ میں دے دیا۔ ممبئی میں ابو سالم کے خلاف کم از کم ساٹھ فوجداری مقدمات درج ہیں جس میں بم دھماکوں کے علاوہ فلمساز گلشن کمار، مکیش دگل، منیشا کوئرالا کے سکریٹری اجیت دیوانی ، ٹھیکےدار پردیپ جین سمیت کئی افراد کے قتل، ہفتہ وصولی، اور جان سے مارنے کی دھمکی اور فرضی پاسپورٹ کے کیس ہیں ۔ ممبئی میں سی بی آئی کے دفتر کے باہر پولس اور اسپیشل ٹاسک فورس کا زبردست پہرہ ہے۔ وزیر اعلی کے دفتر منترالیہ کے سامنے واقع سی بی آئی کے دفتر میں ابو سالم سے تفتیش جاری ہے اور پولس کمشنر اے این رائے کے مطابق ایسے کئی رازوں سے پردہ اٹھنے کے امکانات ہیں جس سے پولس ابھی بھی ناواقف ہے ۔ ابو سالم پر الزام ہے کہ انہوں نے 1993 کے سلسلہ وار بم دھماکوں میں اسلحہ سپلائی کیا تھا ۔ بارہ مارچ انیس سو ترانوے میں ہونے والے ان بم دھماکوں میں دو سو ستاون افراد ہلاک ہوئے تھے اور سات سو پچاس لوگ زخمی۔ ستائیس کروڑ سے زیادہ مالیت کا نقصان ہوا تھا اور ایک سو بانوے ملزمین کے خلاف چارج شیٹ داخل ہوئی تھی جس کا اہم ملزم مافیا سرغنہ داؤد ابراہیم اور ٹائیگر میمن کو بتایا گیا تھا۔ بیس ستمبر دو ہزار دو میں ابو سالم کو انٹرپول کی مدد سے پرتگال کے شہر لزبن میں ان کی ساتھی مونیکا بیدی کے ساتھ فرضی پاسپورٹ کے ذریعے شہر میں داخل ہونے کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا ۔ ابو سالم کی گرفتاری کے بعد سے سی بی آئی نے پرتگال حکومت سے حوالگی کا مطالبہ شروع کیا تھا لیکن اس میں اسے کامیابی فروری دو ہزار چار میں ہوئی۔ عدالت نے سی بی آئی کو اپنا کیس پیش کرنے کے لیے کہا اور دستاویزات کی جانچ کے بعد عدالت نے اس شرط پر دونوں ملزمین کو انڈیا کے حوالے کیا کہ وہ ملزمین کو پھانسی کی سزا نہیں دے سکتے اور نہ ہی انہیں پچیس سال سے زیادہ قید میں رکھ سکتے ہیں ۔واضح رہے کہ یورپی ممالک میں موت کی سزا پر پابندی ہے۔ ابو سالم کون ہیں؟ یہاں وہ ان کے ساتھ مل کر زمین اور جائیداد کے جھگڑ ے نمٹانے لگے لیکن وہاں اپنی کالج جانے والی محبوبہ کے اغوا کے الزام میں انہیں پولس نے حراست میں رکھا جس کے بعد وہ اندھیری سے سانتا کروز آئے جہاں انہوں نے ٹریویل ایجنسی میں کام کیا ۔ یہاں ان کی ملاقات داؤد ابراہیم کے بھائی انیس ابراہیم سے ہوئی اور وہ انہیں اپنے گینگ میں شامل کرانے داؤد ابراہیم کے پاس لایا۔ ابو سالم کو یہاں فون پر لوگوں کو ہفتہ وصولی کے لیے دھمکانے کا کام ملا۔ اسی کے ساتھ ابو سالم نے فلمی دنیا میں ہفتہ وصولی کا کام شروع کیا جس میں انہیں کامیابی بھی ملی۔ پولس ریکارڈ کے مطابق اس وقت داؤد ابراہیم دوبئی میں تھے اور ابو سالم ممبئی سے دوبئی فلمی ستاروں کی ٹیم لے جایا کرتاے تھے جہاں وہ کئی پروگرام کیا کرتے تھے۔ انیس سو ترانوے میں ممبئی بم دھماکوں کے بعد جب سی بی آئی کی تفتیش میں ابو سالم کا نام آیا تو وہ ممبئی سے فرار ہو گئے۔ 1997 میں فلمساز گلشن کمار کا قتل ہوا اور پولس نے ابو سالم کو اس قتل کی سازش کا ملزم قرار دیا۔ پولس کے مطابق یہ قتل ابو سالم نے داؤد سے پوچھے بغیر کیا تھا اس لیے داؤد نے اسے گینگ سے باہر کر دیا ۔اس کے بعد ابو سالم نے امریکہ میں اپنا اڈہ بنا لیا ۔اس کے بعد سے فلمی دنیا پر اس نے اپنا شکنجہ کسنا شروع کیا۔ ابو سالم کے بارے میں سی بی آئی اور ممبئی پولس کا کہنا ہے کہ وہ بھیس بدلنے میں ماہر ہیں ۔ان کے پاس آٹھ سے زیادہ فرضی پاسپورٹ ہیں جن کی مدد سے وہ اپنے ٹھکانے بدلتے رہتے تھے ۔ فلمساز مکیش دگل پروگرام کرنے کے لیے اپنے ساتھ مونیکا بیدی کو دوبئی لے گئے اور اطلاعات کے مطبق اس دوران ابو سالم اور مونیکا میں پیار ہو گیا۔ ابو سالم نے اسی لیے کئی فلمسازوں کو مبینہ طور پر دھمکا کر مونیکا کو فلموں میں کام دلانا شروع کیا۔ پولس ریکارڈ کے ہی مطابق بعد میں ابو سالم نے کسی وجہ سے مکیش دگل کا قتل کروایا ۔ قتل کی سازش میں اس کے علاوہ اجیت دیوانی اور ٹھیکے دار پردیپ جین اور اوم پرکش ککریجا کا بھی نام شامل ہے ۔ ممبئی پولیس پولس کمشنر اے این رائے کے مطابق ابو سالم سے تفتیش کے دوران کئی رازوں سے پردہ اٹھ سکتا ہے ۔داؤد کے کام کرنے کے انداز اس کے خفیہ اڈوں اور اسی کے ساتھ بولی وڈ اور انڈر ورلڈ کے رشتے بھی بے نقاب ہوں گے ۔ | اسی بارے میں ابو سالم اور مونیکا انڈیا کے حوالے10 November, 2005 | انڈیا ابوسالم: پولیس افسرگرفتار22.09.2002 | صفحۂ اول ابو سالم گرفتار23.09.2002 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||