ابو سالم کون ہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمعہ کو عدالت میں پیش کئے جانے والا ابو سالم بھارتی انڈرورلڈ کا سب سے خوف ناک کردار ہے۔ بھارتی پولیس نے ابو سالم عرف عبدالسالم انصاری پر الزام لگایا ہے کہ وہ 1993 کے ممبئی بم دھماکوں میں ملوث ہے، جن میں 250 سے زیادہ لوگ ہلاک اور 1000 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ تفتیشی اہلکاروں کو ابو سالم سے 60 سے زیادہ قتل کی وارداتوں میں بھی پوچھ گچھ کرنی ہے۔ اس کے علاوہ اس پر بہت سے اغوا اور تاوان کے مقدمات درج ہیں، جن کے متاثرین میں بالی وڈ کے کچھ اداکار اور پروڈیوسر بھی شامل ہیں۔ سالم 1993 کے دھماکوں کے بعد اپنی ساتھی مونیکا بیدی کے ساتھ ملک سے فرار ہو گیا تھا۔ اداکارہ مونیکا کا تعلق بھی بھارتی فلم انڈسٹری سے تھا۔ لیکن آخر کار ان کے اچھے دن ختم ہوئے جب انہیں پرتگالی پولیس نے انٹرپول کی درخواست پر حراست میں لے لیا۔ اس وقت سے بھارت نے ان کو واپس بھارتی حکومت کے حوالے کرنے کے لیے دباؤ ڈالا ہوا تھا۔ پرتگالی عدالت نے نومبر 2003 میں سالم کو جعلی کاغذات رکھنے کے جرم میں ساڑھے چار سال قید کی سزا سنائی، جبکہ مونیکا بیدی کو دو سال کی سزا سنائی گئی۔ پرتگالی حکومت نے بھارتی حکومت کی اس یقین دہانی کے بعد کہ انہیں سزائے موت نہیں دی جائے گی، ان کو بھارت کے حوالے کرنے پر رضامندی ظاھر کی۔ بھارتی حکومت کے مطابق سالم بھارت کے سب سے زیادہ مطلوب شخص داؤد ابراہیم کا قریبی ساتھی ہے۔ داؤد ابراہیم بھی ممبئی دھماکوں میں مطلوب ہے۔ خیال ہے کہ یہ دھماکے 1992 کے فسادات کے جواب میں کیے گئے تھے، جن میں سینکڑوں مسلمان ہلاک ہوئے۔ ان فسادات کا الزام ہندو شیو سینہا پارٹی پر لگایا جاتا ہے۔ بھارت کی ایجنسیوں کے مطابق داؤد ابراہیم اب پاکستان میں ہے، اور وہاں سے سب کچھ کنٹرول کررہا ہے۔
ابو سالم نے بھی بہت سے دوسرے غنڈوں کی طرح داؤد کے گروپ میں نچلی سطح پر کام شروع کیا۔ اس کا تعلق اتر پردیش کے ضلع اعظم گڑھ سے ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس نے اپنی عملی زندگی کا آغاز ایک ٹیکسی ڈرائیور کے طور پر کیا۔ 80ء کی دھائی کے وسط میں ابو سالم ممبئی آیا اور ایک ٹیلیفون بوتھ چلانے کے ساتھ ساتھ چھوٹے موٹے جرائم کرنے لگا۔ پھر اس کے تعلقات میں اضافہ ہوا اور وہ داؤد کے چھوٹے بھائی انیس سے ملنے جلنے لگا۔ جلد ہی ابو سالم داؤد ابراہیم کے گینگ میں شامل ہوگیااور اس کے لیے بندوق اٹھا لی۔ ابو سالم کی ذمہ داری گینگ کےنشانہ بازوں کے لیے شہر میں مختلف مقامات پر اسلحے کی ترسیل تھی۔جلد ہی اس نے اپنے باس کے لیے کاروباری لوگوں اور بالی وڈ کی شخصیات سے بھتہ وصول کرنا بھی شروع کر دیا۔ لیکن 90ء کی دھائی کے وسط تک وہ دوسرے یا تیسرے درجے کا سپاہی تھا۔ 1997 میں بالی وڈ کے پروڈیوسر گلشن کمار کے سنسنی خیز قتل کے بعد ابو سالم کا شمار بڑے غنڈوں میں ہونے لگا۔ چند ماہ بعد اس پر ایک اور پروڈیوسر راجیو راج کو زخمی کرنے کا الزام بھی لگا۔ اب بالی وڈ میں سالم کی دھاک بیٹھ چکی تھی، اور سالم ان دو واقعات کو اپنے شکار کو حراساں کرنے کے لیے استعمال کرنے لگا۔ بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی وجہ سے اس کی ایک اور بدنام گینگ کے ساتھ مخالفت شروع ہو گئی، جس کے سربراہ کا نام چھوٹا شکیل تھا۔ چھوٹا شکیل بھی جرائم کی دنیا میں داؤد ابداہیم کے نائب کی حیثیت اختیار کر چکا تھا۔ ابو سالم 1998 میں داؤد کے گینگ سے علیحدہ ہو گیا۔ 90ء کی دھائی کے آخری سالوں میں ابو سالم کا بالی وڈ میں اثرورسوخ بھارتی فلم انڈسٹری میں دیومالائی کہانی کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔
پولیس کے مطابق منیشا کوئرالہ کے سیکریٹری اجیت دیوانی کے قتل میں بھی ابو سالم کا ہاتھ تھا۔ وہ پروڈیوسروں سے بھتہ لیتا تھا اور اس نے فلمیں بھی بنانا شروع کر دیں۔ وہیں اس کی ملاقات مونیکا بیدی سے ہوئی اور دونوں نے ایک ساتھ رہنا شروع کر دیا۔ پولیس کا خیال ہے کہ ابو سالم پروڈیوسروں پر دباؤ ڈالتا تھا کہ وہ مونیکا کو اس کی ناکام فلموں کے باوجود نئی فلموں میں کاسٹ کریں۔ ابو سالم کے ملک سے فرار کے بعد بالی وڈ کے حالات بہت بدل گئے ہیں۔ اب عام تاثر ہے کہ شہر کا مافیا اب فلمی صنعت پراتنا اثر نہیں رکھتا جتنا پچھلی دو دھائیوں میں رکھتا تھا۔ | اسی بارے میں مسلمانوں کے لیے قانون غیر آئینی07 November, 2005 | انڈیا دلی دھماکے: مشتبہ شخص گرفتار 09 November, 2005 | انڈیا ابو سالم اور مونیکا انڈیا کے حوالے10 November, 2005 | انڈیا ’راجا بھیا‘ پر پوٹا کے تحت مقدمہ 10 November, 2005 | انڈیا ابو سالم ریمانڈ پر پولیس کے حوالے11 November, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||