BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 07 November, 2005, 12:17 GMT 17:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مسلمانوں کے لیے قانون غیر آئینی
آندھرا پردیش ہائی کورٹ
آندھرا پردیش ہائی کورٹ نے مسلمانوں کے لیے ملازمتوں کے قانون کو غیر آئینی قرار دے کر مسترد کر دیا۔

جنوبی بھارت کی ریاست آندھرا پردیش نے مسلمان اقلیت کے لیے تمام ملازتوں میں ایک حصہ مخصوص کرنے کا قانون منظور کیا تھا۔

گزشتہ ماہ ریاستی اسمبلی نے تمام سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں اقتصادی طور پر محروم مسلمان اقلیت کے لیے پانچ فی صد نششتیں مخصوص کرنے کا قانون منظور کیا تھا۔

اس قانون کی منظوری کا اعلان تو گزشتہ جون میں کیا گیا تھا لیکن اس کے لیے قانون کا مسودہ گزشتہ ماہ اسمبلی میں پیش کیا گیا اور اسمبلی نے اس کے منظوری دے دی۔

ہائی کورٹ کی بنچ نے جس کے سربراہ آندھرا ہائی کوٹ کے چیف جسٹس تھے، اس قانون کو غیر آئینی، من مانا اور کالعدم قرار دیا ہے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ جس کمیشن کی سفارش کی بنا پر یہ قانون بنایا گیا ہے اس نے پسماندگی کا پس منظر طے کرنے کے لیے مناسب معیار وضح نہیں کیا۔

بھارتی حزبِ اختلاف کی مرکزی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس قانون کی مخالف ہے اور اس کا کہنا ہے کہ مذہبی بنیاد پر نششتیں مخصوص کرنا سکیولر تصور کی روح کے منافی ہے۔

اس کا کہنا ہے کہ یہ قانون محض اس لیے بنایا گیا ہے کہ مسلمانوں کے ووٹ حاصل کیے جا سکیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد