مسلمانوں کے لیے قانون غیر آئینی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آندھرا پردیش ہائی کورٹ نے مسلمانوں کے لیے ملازمتوں کے قانون کو غیر آئینی قرار دے کر مسترد کر دیا۔ جنوبی بھارت کی ریاست آندھرا پردیش نے مسلمان اقلیت کے لیے تمام ملازتوں میں ایک حصہ مخصوص کرنے کا قانون منظور کیا تھا۔ گزشتہ ماہ ریاستی اسمبلی نے تمام سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں اقتصادی طور پر محروم مسلمان اقلیت کے لیے پانچ فی صد نششتیں مخصوص کرنے کا قانون منظور کیا تھا۔ اس قانون کی منظوری کا اعلان تو گزشتہ جون میں کیا گیا تھا لیکن اس کے لیے قانون کا مسودہ گزشتہ ماہ اسمبلی میں پیش کیا گیا اور اسمبلی نے اس کے منظوری دے دی۔ ہائی کورٹ کی بنچ نے جس کے سربراہ آندھرا ہائی کوٹ کے چیف جسٹس تھے، اس قانون کو غیر آئینی، من مانا اور کالعدم قرار دیا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ جس کمیشن کی سفارش کی بنا پر یہ قانون بنایا گیا ہے اس نے پسماندگی کا پس منظر طے کرنے کے لیے مناسب معیار وضح نہیں کیا۔ بھارتی حزبِ اختلاف کی مرکزی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس قانون کی مخالف ہے اور اس کا کہنا ہے کہ مذہبی بنیاد پر نششتیں مخصوص کرنا سکیولر تصور کی روح کے منافی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ قانون محض اس لیے بنایا گیا ہے کہ مسلمانوں کے ووٹ حاصل کیے جا سکیں۔ | اسی بارے میں ہندوؤں کی مسلمانوں کودھمکی05 October, 2005 | انڈیا علیگڑھ: مسلمانوں کا کوٹہ نہیں05 October, 2005 | انڈیا مسلمان: ’ آمریت یا جمہوریت‘08 September, 2005 | انڈیا مسلمانوں کو ختم کرنے کا حکم تھا‘ 14 April, 2005 | انڈیا حیدرآباد: مسلمانوں میں کشیدگی31 October, 2004 | انڈیا ہندو و مسلمان طلباء الگ الگ بیج 27 October, 2004 | انڈیا مسلمان: شرح پیدائش گھٹی ہے08 September, 2004 | انڈیا بھارتی مسلمانوں کی شرح پیدائش 07 September, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||