حیدرآباد: مسلمانوں میں کشیدگی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی ریاست آندھرا پردیش میں ریاست گجرات کی پولیس کی فائرنگ سے ایک نوجوان کی ہلاکت کے بعد حیدرآباد کے مسلمانوں میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ حیدر آباد سے بی بی سی کے نامہ نگار عمر فاروق کا کہنا ہے کہ گجرات پولیس ایک وارنٹ کے ساتھ مسلمانوں کے ایک مذپبی رہنما نصیرالدین کے گرفتاری کے لیے آئی تھی اور اس کا کہنا تھا کہ وہ انہیں گجرات کے ایک سابق وزیرداخلہ ہرین پانڈیا کے قتل کے حوالے سے مطلوب تھے۔ نصیرالدین کو حیدر آباد پولیس نے کچھ عرصہ قبل لشکرِ طیبہ سے تعلق کے شبہ میں گرفتار کیا تھا تاہم بعد میں انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا اور یہ پابندی لگا دی گئی کہ وہ ہر اتوار کو حاضر ہو کر دستخط کیا کریں۔ اتوار کو جب وہ دستخط کرنے کے لیے آئے تو گجرات سے وارنٹ لے کر آنے والی پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا اور انہیں لے کر حیدر آباد پولیس کے ڈائریکٹر جنرل کے دفتر جا رہی تھی کہ انکے حامیوں نے جمع ہونا شروع کر دیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان لوگوں نے نصیرالدین کو چھڑانے کی کوشش کی جس کے دوران پولیس ٹیم کے ایک رکن نے فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے نتیجے میں ایک نوجوان کے سینے پر دو گولیاں لگیں اور وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔ جس علاقے میں واقعہ ہوا ہے وہ زیادہ تر سرکاری دفاتر کا علاقہ ہے تاہم اس واقعے کا اثر مسلمان اکثریت کے علاقوں پر پڑا ہے اور پولیس کمشنر کا کہنا ہے کہ انہوں نے مذکورہ علاقوں میں پولیس کی اضافی نفری مقرر کر دی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||