مسلمانوں کو ختم کرنے کا حکم تھا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گجرات کے ایک سینیئر پولیس افسر نے دعویٰ کیا ہے کہ فرقہ وارانہ فسادات کے دوران وزیراعلیٰ نریندر مودی نے مسلمانوں کو ختم کرنے کے احکامات جاری کیے تھے تاہم گجرات کی حکومت نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ گجرات کے ایڈیشنل جنرل آف پولیس آربی شری کمار نے سینٹرل ایڈمنسٹریٹیو ٹریبونل یعنی ’سی اے ٹی‘ سے شکایت کی ہے کہ جب وہ ریاست میں خفیہ پولیس کے سربراہ تھے اس دوران وزیراعلیء نریندر مودی کے اعلیٰ افسروں کی جانب سے ایسے کئی پیغام ملے تھے کہ اقلیتی فرقے کے مسلمان جو گڑ بڑ پھیلانے کی کوشش کریں انہیں کو ختم کردیا جائے۔ پولیس افسر کے مطابق نرییندر مودی نے اپنے مخالفین کے فون ٹیپ کرنے کے بھی احکامات دیے تھے۔ مسٹر کمار نے اس کے ثبوت میں اپنے ایک خاص دفتری رجسٹر کا حوالہ دیا ہے جس میں مسٹر مودی کے ساتھ ان کے ملاقاتوں کا تفصیلی ذکر ہے۔ اس ڈائری میں تاریخ بہ تاریخ بہت سے واقعات لکھے ہیں۔ مثال کے طور پر اٹھائیس جون سن دوہزار کی تاریخ میں مودی کی رتھ یاترا کی تیاریوں کا ذکر ہے جس میں اس وقت کے چیف سیکریٹری جی سباراؤ نے شری کمار سے کہا تھا کہ ’اگر کوئی رتھ یاترا میں خلل ڈالنے کی کوشش کرے تو اسےختم کردیا جائے‘ ۔ شری کمار نے مزید لکھا ہے کہ انہوں نےسیکریٹری سے کہا کہ جب تک ناگزیر حالات نہ ہوں کسی کو جان سے مارنا غیر قانونی ہے تو چیف سیکریٹری نے کہا کہ اس کے متعلق وزیراعلیء نریندر مودی نے بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کیاہے۔ اسی برس سات مئی کا ایک واقعہ درج ہے جس میں نریندر مودی نے شری کمار سے کہا تھا کہ ’وہ زیادہ توجہ مسلم ملیٹینٹس پردیں اور سنگھ پریوار پر نہیں کیونکہ وہ کچھ بھی غیر قانونی نہیں کرہے ہیں ۔اس رجسٹر کے مطابق جب شری کمار نے مودی کے حکم کے بعد بھی سنگھ کے آدمیوں کو نہیں بخشا تو مسٹر مودی نے کہا کہ وہ سنگھ کے معاملے میں انکی مدد کرسکتے ہیں۔‘ سن دوہزار میں گودھراسانحے کے بعد گجرات کے فرقہ وارانہ فسادات میں تقریباً دوہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ان بدترین قسم کے فسادات میں مرنے والے زیادہ تر مسلمان تھے۔ ابھی تک اس قتل عام میں ملوث کسی بھی فرد کو سزا نہیں ملی ہے۔ شری کمار کا کہنا ہے کہ مودی نے اپنے مخالفین کے فون ٹیپ کرنے کو بھی کہا اور اس سلسلے میں کانگریس کے لیڈر شنکر سنگھ واگھیلا، اپنی ہی کابینہ کے ایک سابق وزیر ہرین پانڈیہ اور کچھ مسلمان رہنماؤں اور پولیس افسران کے فون ٹیپ کیے گیے تھے۔ آر بی کمار ایک سینیئر افسر ہیں اور گجرات انتظامیہ نے انہیں ترقی نہیں دی تھی اور دوسرے افسر کو بڑے عہدے پر فائز کر دیا تھا۔ کمار کا کہنا ہے کہ انہوں نے مودی کے بعض غیر قانونی احکامات نظرانداز کیے تھے اسی لیے انہیں یہ سزا ملی ہے۔ گجرات حکومت کے ایک وزیر امیت شاہ نے شری کمار کی طرف سے لگائے گئے الزامات کی تردید کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شری کمار نے یہ الزامات ترقی نہ ملنے پر مایوس ہونے کی صورت میں لگائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شری کمار کی طرف سے مرکز میں حکومت کی تبدیلی کے بعد سامنے آئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||