ہندو و مسلمان طلباء الگ الگ بیج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکمراں جماعت کانگریس نے گجرات کے ایک اسکول میں ہندو اور مسلمان طلباء کو یونیفارم میں علحیدہ علحیدہ بیجز پہننے کی سخت مذمت کی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ مذہبی بنیادوں پر بچوں کے درمیان تفریق غیرآئینی ہے اور اس پر فورا پابندی عائد کر دینی چاہیے۔ اطلاعات کے مطابق ریاست گجرات میں شہرا کے ایس جے دوے ہائی اسکول میں ہندو طلباء کے یونیفارم میں ہندو دیوی سرسوتی کی شبیہ بنی ہے جبکہ اسی اسکول میں پڑھنے والے مسلمان طلباء کے بیج پر اسٹار بنا ہے۔ شہر کا مشہور قصبہ گودھرا سے صرف پچیس کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے جہاں دو برس قبل ٹرین میں آتش زنی کے سبب کچھ ہندو کارسیوکوں (رضاکاروں) کی موت کے بعد زبردست فرقہ وارانہ فسادات بھڑک اٹھے تھے۔ کانگریس پارٹی کی ترجمان جینتی نٹراجن نے کہا کہ مذہب کی بنیاد پر اسکول کے معصوم بچوں میں اس طرح کا امتیاز درست نہیں ہے اور اس طرح کی تفریق سے فرقہ وارانہ منافرت میں مزید اضافہ ہوگا۔محترمہ نٹراجن نے کہا کہ گجرات حکومت کو اس پر فورا پابندی عائد کر دینی چاہیۓ۔انکا کہنا تھا کہ بچوں کے درمیان اس طرح کی تفریق ملک کے لیے مزید مہلک ثابت ہوگی۔ حال ہی میں ایس جے دوے ہائی اسکول کے دو ٹرسٹیز نے اعتراض کیا تھا کہ ایک ہی اسکول میں ہندو طلباء کے بیجیز پر ہندو دیوی سرسوتی کی تصویر اور مسلمان طلباءکے بیج پر ستارہ بچوں میں نفرت کے بیج بونے کا کام کرے گا۔ ان افراد نے اس تفریق کو بلا تاخیر دور کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ اسکول کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یونیفارم میں الگ الگ بیجز استعمال کرنے کا فیصلہ اس لیے کرنا پڑا تھا کیونکہ بعض مسلم طلباء کے والدین کو یونیفارم میں ہندو دیوی سرسوتی کی شبیہ پر اعتراض تھا۔ انتظامیہ کے مطابق یہ تفریق اس لیے کی گئی ہے تاکہ مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس نہ پہونچے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||