مسلمان: ’ آمریت یا جمہوریت‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کے وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے کہا ہے کہ بین الاقوامی برادری کو یہ طے کرنا ہو گا کہ وہ مسلمانوں کے لئے جمہوریت کا انتخاب کرتے ہیں یا آمریت کا۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو افغانستان اور عراق میں موجودہ سیاسی عمل کو کامیاب بنانا ہوگا۔ ہندوستان کے دو روزہ دورے کے اختتام پر مسٹر بلیئر نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان اور عراق میں جمہوریت کے قیام کی کوشش اقوام متحدہ کی مکمل حمایت کے ساتھ ہو رہی ہے اور اس کے تحت یہاں کے عوام ووٹ ڈال سکیں گے اور جمہوری طریقے سے اپنی حکومت منتخب کر سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’آج مسلمانوں کو جمہوریت سے نہیں بلکہ ان دہشت گردوں سے خطرہ ہے جو حقیقی اسلام کے قطعی برعکس عراق اور افغانستان میں معصوم لوگوں کو قتل کر رہے ہیں اور بموں کا نشانہ بنا رہے ہيں‘۔ ٹونی بلیئر نے کہا کہ اب سبھی معقولیت پسند لوگوں کو عراق اور افغانستان میں سیاسی عمل کی حمایت کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک ’ٹریجڈی‘ ہوگی اگر ایک ایسی صورتحال پیدا ہو جائے جس میں مسلم اور عرب ملکوں کے سامنے صرف آمریت کا انتخاب بچا ہو۔ مسٹر بلیئر یورپین یونین کے سربراہ کی حیثیت سے ہندوستان کے دو روزہ دورے پر تھے۔ انہوں نے اپنے ہندوستانی ہم منصب منموہن سنگھ سے ہند۔برطانیہ تعلقات پر بات چیت کی اور تجارت و اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے کئی معاہدوں پر دستخط کیے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||