منموہن سنگھ کا دورہ افغانستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت اور افغانستان نےتعلیم، صحت اور زرعی شعبے کی ترقی کے لیے ایک معاہدے پراتفاق کیا ہے۔ وزیراعظم منموہن سنگھ نےصدر حامد کرزئی سےملاقات کے بعد افغانستان کی ترقی کے لیے ہرممکن مدد کی پیش کش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقے میں پائیدار امن کے لیے افغانستان کی خوشحالی ضروری ہے۔ صحت کے شعبے میں معاہدے کے مطابق ہندوستان میڈیکل سائینسز، صحت عامہ ،ہسپتال اورخاندانی فلاح و بہبود کے پروگراموں میں مدد کرےگا۔ تعلیم کےشعبےمیں کمیونٹی ڈویلپمنٹ اور اعلیٰ سول حکام کی ٹرینگ کی شامل ہے۔ زرعی شعبے میں دونوں ملک سائینسز کا تبادلہ کرینگے اور ماہرین کی مدد اس شعبے میں فائدہ حاصل کریں گے۔
جنگ سے تباہ حال افغانستان میں توانائی کی کمی ہے اور بھارت نے اس شعبے میں بھی اسےمدد فراہم کرنے کو کہا ہے۔ بھارت افغانستان کی ٹرانسپورٹ ، ٹیلی کمیونکیشن اور شہری ہوا بازی کے شعبے میں اسکی پہلے ہی مدد کرتا رہا ہے۔ لیکن تازہ معاہدے کے تحت اس دائرے کو مزید بڑھایا جائےگا۔ وزیراعظم منموہن سنگھ اور صدر حامد کرزئی نےاس معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ کابل میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوۓ منمو ہن سنگھ نے دہشتگردی کے خطرات سے بھی آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا ’انہوں نےدنیا بھر کی طرح بھارت اور افغانستان میں بھی دہشت گردی کے متعلق بات چیت کی ہے۔ وہ اس بات پر متفق ہیں کہ دہشت گردی کہیں بھی ہو وہ ایک خطرہ ہے اور اس سے نمٹنا ہے‘۔
گزشتہ تقریباتین عشروں میں کسی بھی بھارتی وزیراعظم کا افغانستان کا یہ پہلا دورہ ہے۔ اس سے قبل سنہ انیس سو چھہّتر میں اس وقت کی وزیراعظم اندرا گاندھی نے افغانستان کا دورہ کیا تھا۔ وزیراعظم منموہن سنگھ افغانستان کی پارلیمنٹ کی عمارت کی سنگ بنیاد کی تقریب میں بھی شرکت کریں گے۔ یہ عمارت بھارتی تعاون سے تعمیر ہوگي۔ افغانستان کے پڑوسی ممالک میں بھارت اسےسب سے زیادہ امداد فراہم کرنے والا ملک ہے۔ دو ہزار ایک سےاب تک وہ افغانستان کوتقریبا پچاس کروڑ ڈالر کی امداد دے چکا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ بھارت مزید امداد کا اعلان بھی کرنے والا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کابل میں اپنے اثرو رسوخ کو اور موثر بنانے کی کوشش میں ہے۔
طالبان حکومت کےدور میں افغانستان پر پاکستان کا اثرو رسوخ زیادہ تھا اور بھارت اور افغانستان کے تعلقات میں گرم جوشی نہیں تھی۔ بعض سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت اور پاکستان کابل سے قربت کے لیے |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||