BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 01 May, 2005, 17:19 GMT 22:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھارت: اقلیتیں کودرپیش خطرات

News image
ہندوستان میں سکھوں میں لڑکیوں کو مارنے کے رحجان لڑکے لڑکیوں کا تناسب دس کے مقابلے میں سات کا کر دیا ہے
ہندوستان میں اقلیتی کمیشن کا کہنا ہے کہ ملک کے تمام مذاہب کے ہاں شرح پیدائش میں کمی واقع ہورہی ہے لیکن دوسروں کی بہ نسبت مسلمانوں کی شرح نمود اب بھی تھوڑی زیادہ ہے اور اس کے کچھ بہتر پہلو بھی ہیں۔ کمیشن کے مطابق پارسیوں کی تعداد بہت تیزی سے گھٹ رہی ہے اور سکھوں میں لڑکیوں کومارنے کا رجحان بہت زیادہ ہے۔

اقلیتی کمیشن نے ملک کے مختلف فرقوں کی مردم شماری کا جائزہ پیش کرتے ہو ئے کہا کہ دوسروں کے مقابلے مسلمانوں کی شرح نمود زیادہ ہے لیکن اچھی بات یہ ہے کہ ان کے ہاں لڑکے لڑکیوں میں توازن برقرار ہے۔

مردم شماری کے ماہر ڈاکر آشیش بوس کا کہنا تھا ’مسلم برادری میں لڑکیوں کو مادر رحم میں یا پیدا ہوتے ہی مارنے کا رجحان بالکل نا ہونے کے برابر ہے۔ دوسرے اچھی چیز یہ ہے کہ ملک کے تقریبا تیس فیصد مسلمان خاندانی منصوبہ بندی پر عمل پیرا ہیں‘۔

اس موقع پر کمیشن کے چئرمین ترلوچن سنگھ نے کہا کہ سکھوں میں لڑکیوں کو مارنے کا رواج سب سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالت اتنی سنگین ہے کہ سکھوں کے مذہبی رہنما اکال تخت کو بلا کر یہ بات بتائی گئي ہے اور اس پر قابو پانے کے لیے انہوں نے ایک فتويٰ جاری کیا ہے ۔ اعداد و شمار کے مطابق سکھوں میں ایک ہزار لڑکوں کے مقابل لڑکیوں کی تعداد سات سو ہے۔ جائزے کے مطابق کئي دیگر مذاہب میں بھی لڑکیوں کو مارنے کا رواج ہے لیکن سب سے زیادہ سکھ برادری میں ہے۔

اقلیتی کمیشن کے ان تازہ جائزوں کے مطابق ملک میں پارسی برادری کی تعداد بہت تیزی سے کم ہورہی ہے اور اگر یہی صورت حال رہی تو پچاس برس بعد شاید وہ بالکل مٹ جائیں۔ جائزے کے مطابق پارسی پارسیوں سے باہر بہت کم شادی کرتے ہیں اس لیے ان کی تعداد کم سے کم ہوتی جا رہی ہے۔

تازہ سروے کے مطابق جنوبی ہندوستان کے مسلمانوں کی معاشی اور تعلیمی حالت بہتر ہے اس لیے وہاں ہندوؤں اور مسلمانوں کی شرح پیدائش تقریبا یکساں ہے۔ جبکہ شمالی ہندوستان میں مسلمان دوسرے فرقوں سے آگے ہیں۔ فکر کی بات یہ ہے کہ دیہی علاقوں میں اقتصادی اور تعلیمی اعتبار سے ہندوؤں اور مسلمان کے درمیان زیادہ فرق نہیں ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد