بھارت: اقلیتیں کودرپیش خطرات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں اقلیتی کمیشن کا کہنا ہے کہ ملک کے تمام مذاہب کے ہاں شرح پیدائش میں کمی واقع ہورہی ہے لیکن دوسروں کی بہ نسبت مسلمانوں کی شرح نمود اب بھی تھوڑی زیادہ ہے اور اس کے کچھ بہتر پہلو بھی ہیں۔ کمیشن کے مطابق پارسیوں کی تعداد بہت تیزی سے گھٹ رہی ہے اور سکھوں میں لڑکیوں کومارنے کا رجحان بہت زیادہ ہے۔ اقلیتی کمیشن نے ملک کے مختلف فرقوں کی مردم شماری کا جائزہ پیش کرتے ہو ئے کہا کہ دوسروں کے مقابلے مسلمانوں کی شرح نمود زیادہ ہے لیکن اچھی بات یہ ہے کہ ان کے ہاں لڑکے لڑکیوں میں توازن برقرار ہے۔ مردم شماری کے ماہر ڈاکر آشیش بوس کا کہنا تھا ’مسلم برادری میں لڑکیوں کو مادر رحم میں یا پیدا ہوتے ہی مارنے کا رجحان بالکل نا ہونے کے برابر ہے۔ دوسرے اچھی چیز یہ ہے کہ ملک کے تقریبا تیس فیصد مسلمان خاندانی منصوبہ بندی پر عمل پیرا ہیں‘۔ اس موقع پر کمیشن کے چئرمین ترلوچن سنگھ نے کہا کہ سکھوں میں لڑکیوں کو مارنے کا رواج سب سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالت اتنی سنگین ہے کہ سکھوں کے مذہبی رہنما اکال تخت کو بلا کر یہ بات بتائی گئي ہے اور اس پر قابو پانے کے لیے انہوں نے ایک فتويٰ جاری کیا ہے ۔ اعداد و شمار کے مطابق سکھوں میں ایک ہزار لڑکوں کے مقابل لڑکیوں کی تعداد سات سو ہے۔ جائزے کے مطابق کئي دیگر مذاہب میں بھی لڑکیوں کو مارنے کا رواج ہے لیکن سب سے زیادہ سکھ برادری میں ہے۔ اقلیتی کمیشن کے ان تازہ جائزوں کے مطابق ملک میں پارسی برادری کی تعداد بہت تیزی سے کم ہورہی ہے اور اگر یہی صورت حال رہی تو پچاس برس بعد شاید وہ بالکل مٹ جائیں۔ جائزے کے مطابق پارسی پارسیوں سے باہر بہت کم شادی کرتے ہیں اس لیے ان کی تعداد کم سے کم ہوتی جا رہی ہے۔ تازہ سروے کے مطابق جنوبی ہندوستان کے مسلمانوں کی معاشی اور تعلیمی حالت بہتر ہے اس لیے وہاں ہندوؤں اور مسلمانوں کی شرح پیدائش تقریبا یکساں ہے۔ جبکہ شمالی ہندوستان میں مسلمان دوسرے فرقوں سے آگے ہیں۔ فکر کی بات یہ ہے کہ دیہی علاقوں میں اقتصادی اور تعلیمی اعتبار سے ہندوؤں اور مسلمان کے درمیان زیادہ فرق نہیں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||