BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 04 August, 2004, 14:22 GMT 19:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ابوغریب کاباورچی افغانستان کیلیے تیار
ابو غریب کا باورچی
بگڑتی صورت حال کے باوجود مشرق وسطیٰ میں کام تلاش کرنے والوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔
عراق سے افغانستان کا سفر بہت کم لوگ طے کرنا چاہیں گے مگر جنوبی بھارت کی ریاست کیریلا سے تعلق رکھنے والے باورچی جیمز متھائی کا کہنا ہے کہ پیسا کمانے کے لیے وہ کہیں بھی جا سکتے ہیں۔

44 سالہ مسٹر متھائی کا کہنا ہے کہ خطرات اٹھائے بغیر پیسا کمانا بہت مشکل ہے۔ مسٹر متھائی ان پچاس افراد میں سے ہیں جو افغانستان میں مقیم ایک امریکی اڈے پر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔

جیمز متھائی نے بارہ سال تک مشرق وسطیٰ کے کئی علاقوں میں کام کیا ہے۔ پچھلے ماہ تک وہ عراق کی بدنام ابو غریب جیل میں کام کیا کرتے تھے۔

تین بھارتی ڈرائیوروں کے اغواء سے کچھ ہفتے پہلے ہی وہ عراق چھوڑ کر واپس بھارت آ گئے تھے اور اب وہ افغانستان جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔

بھارتی باورچی
جیمز متھائی نے عراق کی ابو غریب جیل میں بھی کام کیا ہے

مسٹر متھائی نے بتایا کہ اگر وہ بھارت میں نوکری کریں گے تو ان کی ایک ماہ کی تنخواہ تقریباً دس سے پندرہ ہزار روپے ہوگی جبکہ عراق میں وہ ایک ماہ میں 1200$ کما لیتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں بھی انہیں تقریباً اتنی ہی تنخواہ ملے گی۔

’جتنی رقم کمانے میں مجھے بھارت میں دس سال لگیں گے وہی میں باہر ایک سال میں کما سکتا ہوں۔‘

مسٹر متھائی کے مطابق افغانستان کے بارے میں انہیں حفاظتی صورت حال کی نہیں بلکہ سردی کی فکر ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جن کیمپوں میں انہوں نے کام کیا ہے وہ محفوظ تھے۔

’ابو غریب میں مجھے ڈر نہیں لگا کیونکہ وہاں حفاظتی انتظام امریکی افواج کے ہاتھوں میں تھا اور میں زیادہ تر کیمپ کے اندر ہی رہا کرتا تھا۔‘

بھارتی حکومت نے عراق سفر کرنے پر پابندی لگا دی ہے مگر کئی بھارتی روزگار ایجنسیاں اب بھی لوگوں کو عراق بھیجنے میں کامیاب ہو رہی ہیں۔

ممبئی کی ایک روزگار ایجنسی میں کام کرنے والے ایم آر ورگھیس کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کام تلاش کرنے والوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔

انڈین پرسونیل ایکسپورٹ پرموشن کونسل کے صدر ای آر خان کا کہنا ہے کہ عراق میں بھارتی سفارت خانے کے اہلکاروں کے مطابق وہاں تقریباً چھ ہزار بھارتی کام کر رہے ہیں۔ ان میں سے صرف تین سو قانونی طور پر وہاں آئے ہیں۔

مسٹر متھائی اردن سے ہوتے ہوئے عراق پہنچے تھے۔

بھارتیوں کے اغواء کے باوجود ان کا کہنا ہے کہ عراق میں بھارتیوں کو کوئی خطرہ نہیں ہے کیونکہ عراقی بھارت اور بھارتیوں کو بہت پسند کرتے ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد