پاکستانی طلباء کا بھارت دورہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور اس سے متعلقہ دیگر شعبوں کے طلباء کا ایک وفد ہندوستان آیا ہوا ہے۔ اس وفد میں یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب میں شعبۂ کمپیوٹر اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے تقریبا چالیس طلباء اور اساتذہ ہیں جو ہندوستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ہونے والی ترقی کے جائزے کے لۓ آئےہیں۔ اس سلسلے میں بدھ کے روز وفد نے نئی دہلی میں واقع مشہور آئی آئی آٹی کالج کا دورہ کیا۔ اسی مناسبت سے دلی میں ’دی ایسوسی ایٹیڈ چیمبرس آف کامرس اینڈ انڈسٹری آف انڈیا‘ نے طلباء کے ساتھ تبادلہ خیال کے لۓ میڈیا اور طلباء کو اپنے دفتر میں دعوت دی تھی۔ اس موقع پر کمپیوٹر کی تعلیم کے لۓ مشہور انسٹی ٹیوٹ آپٹیک نے انفارمیشن ٹیکنا لوجی کے متعلق ایک لیکچر کا بھی اہتمام کیا تھا جس میں ہندوستان میں آئی ٹی کے شعبے میں ترقی کا ایک خاکہ پیش کیا گیا۔ پاکستانی طلباء کے وفد سے کئی دانشورں نے خطاب کیا۔ چیمبرز کے صدر مہیندر کے سانگھی کا کہنا تھا کہ ہندوستان نے آئی ٹی کے شعبے میں خاطر خواہ ترقی حاصل کی ہے اور یہ ترقی پڑوسی ممالک کو بھی پہنچنی چاہیۓ ۔ انہوں نے کہا کہ چیمبرز پاکستان کے ساتھ اس طرح کے تعلیمی اور دانشوارانہ تبادلے کے حق میں ہے اور مستقبل میں وہ ایسی مزید کوششیں کرےگا۔ انہوں نے اس سلسے میں کسی بھی طرح کے تعاون کا وعدہ کیا۔ پاکستانی وفد کی قیادت کر نےوالے پروفیسر یعقوب خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہندوستان ہی کی طرح پاکستان میں آ ئی ٹی کے شعبے میں ترقی حاصل کرنے کے لۓ ہندوستان کا تعاون بہت مفید ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ملک واپس ہونے کے بعد وہ اپنی یونیورسٹی کی جانب سے حکام کو تجاویز پیش کویں گے کہ پاکستان میں کمپیوٹر اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں ترقی کے لۓ ہندوستان کے ساتھ مستقل تبادلۂ خیال کی ضرورت ہے۔ لاہور کے ایک طالب علم فرخ عثمانی نے دلی کے آئی آئی آٹی کالج کا دورہ کرنے کے بعد کہا کہ انہوں نے بہت کچھ سیکھا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان میں لوگ بہت مہمان نواز ہیں اور یہاں انہیں کافی عزت بخشی گئی ہے۔ ایک دوسرے طالب علم حمزہ معین کا کہنا تھا کہ ہندوستان میں آئی آٹی کے تعلق سے تعلیم کا معیار پاکستان کے مقابل قدرے بہتر ہے لیکن اس کی وجہ بہتر انفرا اسٹرکچراور اچھی فیکلٹی کی دستیابی ہے اور اگر یہی سہولیات وہاں بھی مہیا ہوں تو پاکستان میں بھی صلاحیت کی کمی نہیں ہے۔ چیبرز کے اس پروگرام میں کئی دانشوروں نے خطاب کیا اور سبھی کا اس بات پر زورتھا کہ ہندوستان اور پاکستان کو تعلیمی شعبے میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا چاہیۓ۔ مقررین کے مطابق یہ دور ذہن و دماغ کے استعمال کا ہے نہ کہ ہتھیاروں کے استعمال کا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے پاس بے پناہ استعدادی قوت و صلاحیت ہے اور اگر دونوں ساتھ مل کر کام کریں تو ترقی کی راہیں مزید ہموار ہونگی ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||