ہندوؤں کی مسلمانوں کودھمکی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سخت گیر ہندو تنظیم وشو ہندو پریشد نے دھمکی دی ہے کہ تین برس قبل ہونے والے مسلم مخالف فسادات کے سلسلے میں اگر ہندوؤں کو گرفتار کیا گیا تو وہ ریاست کے دو اضلاع میں مسلمانوں کا سماجی اور اقتصادی بائیکاٹ کریں گے- وشو ہندو پریشد یعنی وی ایچ پی نے اپنے مطالبات کے حق میں کل ایک ریلی کی اور سینیئر پولیس اہلکاروں کو ایک عرضداشت پیش کی ہے- پریشد کے گودھرا شاخ کے جنرل سکریٹری شمبھو پرساد شکلہ نے بی بی سی کو بتایا کہ'' پولیس معصوم ہندووں کو ہراساں کر رہی ہے- یہاں تک کہ وہ دوکانداروں اور خود پولیس والوں کو بھی پریشان کر رہی ہے- شکلہ نے پولیس کو متنبہ کیا ہےکہ اگر پولیس نے ہندؤوں کو ہراساں کرنا بند نہیں کیا تو خطے کی مسلمانوں کوسماجی اور اقتصادی بائکاٹ کا سامنا کرنا پڑے گا- '' گودھرا کے واقعے کے تین برس بعد اس معاملے کو چھیڑنے کی کیا ضرورت ہے-'' فروری 2002 میں گودھرا میں مبینہ طور پر مسلمانوں کے ایک ہجوم نے ٹرین کے ایک ڈبے کو آگ لگا دی تھی جس میں 59 ہندو زندہ جل کر ہلاک ہو گئۓ تھے- اس واقعے کے بعد ہونے والے فسادات میں ایک ہزار سے زیادہ گودھرا کے معاملے کی جس طرح تحقیقات ہوئی اور بعد میں ہونے والے مسلم مخالف فسادات میں جس طرح قصورواروں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوئی اس کے لئے وزیر اعلی نریندر مودی پر کئی حلقوں سے زبردست نکتہ چینی کی گئی تھی - پولیس نے وی ایچ پی کے الزام کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ تمام گرفتاریاں نئے حاصل ہونے والے ثبوتوں اور متاثرہ لوگوں کے بیانات کی بنیاد پر کی جا رہی ہیں- پولیس یہ گرفتاریاں سپریم کورٹ کے اس حکم کے بعد کر رہی ہے جن میں ان دو ہزار سے زیادہ معاملوں کو دوبارہ کھولنے کا حکم دیا گیا ہے جنہیں پولیس نے یہ کر بند کر دیا تھا کہ ان معاملوں میں کوئی گواہ یا ثبوت نہیں مل سکا ہے- گزشتہ ایک مہینے میں بڑودہ ،داہوڑ اور پنچ محل میں سو سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں بیشتر ہندو ہیں- |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||