BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 31 March, 2005, 09:58 GMT 14:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مودی کو ہٹانے کا کوئی ارادہ نہیں

مودی کی مخالفت بڑھتی جا رہی ہے
مودی کی مخالفت بڑھتی جا رہی ہے
بھارتیہ جنتا پارٹی نے گجرات کے وزیرِاعليٰ نریندر مودی کو ہٹانے سے انکار کر دیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ گجرات میں قیادت کی تبدیلی پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے۔

حکومت سے ناراض پارٹی کے بہت سے ارکان مودی کو ہٹانے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں انہوں نے دلی میں پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کی ہے۔

گجرات کے وزیرِاعلٰي نریندر مودی پر نکتہ چینی کرنے والوں کی کمی نہیں لیکن مودی ایک بار پھر اپنی ہی جماعت کے ارکان کے نشانے پر ہیں۔ بی جے پی کے ناراض ارکان اسمبلی نے مودی کے خلاف تیسری بار علمِ بغاوت بلند کیا ہے۔ دلی میں ان ارکان نے پارٹی صدر ایل کے ایڈوانی سمیت کئی سینیئر رہنماؤں سے ملاقات کی ہے اور مودی کے طرز حکومت کے خلاف شکایات کی ہیں۔

ناراض گروپ سے ملنے کے بعد پارٹی کے سابق صدر وینکیا نائیڈو نے انہیں مشورہ دیا ہے کہ جب تک اختلافات حل نہ ہوں وہ عوام میں بیان بازی سے پرہیز کریں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مودی کو ہٹایا جائے یا نہیں اس پر بات نہیں ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق پارٹی ہائی کمان نے مودی کو وزارت اعليٰ کے عہدے سے ہٹانے سے انکار کر دیا ہے۔

ناراض گروپ کو بیان بازی سے پرہیز کرنے کو کہا گیا تھا لیکن باغی گروپ کے لیڈر کانسی رام رانا یہ کہنے سے باز نہ رہے کہ انکے ساتھی اب بھی خوش نہیں ہیں۔ مودی کے مخالفین کی تعداد تقریباً پچاس ہے اور یہ سب قیادت میں تبدیلی کے خواہاں ہیں۔

نریندر مودی کو ایک اچھا منتظم کہا جاتا ہے۔ لیکن انکے حکومت کرنے کا طرز آمرانہ ہے اور وہ اقتدار کو پوری طرح سے اپنے ہاتھ میں رکھنے کے عادی ہیں۔ آئینی طور پر گجرات میں ستائیس وزیر بنائے جاسکتے ہیں۔ لیکن مودی کی کابینہ میں صرف پندرہ وزیر ہیں۔ جبکہ دوسری ریاستوں میں اکثر وزرائے اعلیٰ زیادہ سے زیادہ ارکان کو خوش رکھنے کے لیے وزیر بنانا چاہتے ہیں۔ تاہم مودی نے زیادہ سے زیادہ قلمدان اپنے ہاتھ میں لے رکھے ہیں۔

اعلٰی قیادت کے پاس مودی کے خلاف تیسری بار شکایت پہنچی ہے۔ مجبوری یہ ہے کہ اگر گجرات میں قیادت تبدیل کر دی جائے تو مودی کے مخالف دھڑے کو تقویت ملنے کا خطرہ ہے۔

ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ اگر گجرات میں مودی کو ہٹا دیا جائے تو مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ بابولال گوڑ اور جھارکھنڈ کے ارجن منڈا کی کرسی بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ ان دونوں ریاستوں میں بھی دوگروپ ہیں اور چاہتے ہیں کہ قیادت میں تبدیلی کی جائے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد