’امریکہ مودی کی مذمت کرے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں کانگریس کےڈیموکریٹک رکن جان کونیرس اور رپبلکن رکن کانگریس جو پٹس نے کانگریس میں ایک قرارداد پیش کی ہے جس میں امریکہ کی حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ ہندوستان کی ریاست گجرات کے وزیرِاعلیٰ نریندر مودی کی مذمت کرے۔ قرار داد میں الزام لگایا گیا ہے کہ نریندر مودی مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف مذہبی تعصب اور فسادات کو ہوا دینے کے قصور وار ہیں۔ یہ قرارداد بین الاقوامی تعلقات کی کمیٹی کو بھی پیش کی گئی تھی۔ اس میں کہا گیا ہے کہ مذہبی آزادی کے امریکی کمیشن نے گزشتہ برس اپنی رپورٹ میں ان خبروں کی تصدیق کی تھی کہ مسٹر مودی کے اقتدار میں سینکڑوں عیسائی مذہبی رہنماؤں پر حملے کیے گئے اور ان کی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچایا گیا۔ اس قراردار میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ گجرات حکومت نے مسلمانوں کے قتل عام کا ارتکاب کرنے والے افراد کو سزائیں نہیں دیں۔ قرارداد میں امریکی کانگریس کو یاد دلایا گیا ہے کہ اس سے قبل امریکی وزارت خارجہ بھی گجرات میں درسی کتابوں میں نسل پرستی کو فروغ دینے اور نازیوں کی ستائش کرنے کے معاملے میں نریندر مودی اور ان کی حکومت کے کردار پر ایک رپورٹ کا جائزہ لے چکی ہے۔ قراداد میں کہا گیا ہے کہ مودی کے اقتدار میں گجرات میں مذہبی اقلیتوں اور غیر ہندو قبائلی آبادی کو مذہبی آزادی حاصل نہیں ہے۔ یہ قرارداد ایک ایسے وقت ميں پیش کی گئی ہے جب نریندر مودی امریکہ کا دورہ کرنے والے ہیں ۔امریکہ میں بعض ہندو نژاد انجمنوں اور حقوق انسانی کی تنظیمیں نریندرمودی کی امریکہ آمد پر احتجاج کی تیاریاں کر رہی ہیں۔ مودی امریکہ میں آباد گجراتی ہندوؤں کی دعوت پر وہاں جارہے ہیں جہاں وہ کئی تقاریب میں شرکت کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||