’مودی، کارروائی زیر غورنہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے پارلیمانی بورڈ کے اجلاس کے بعد کہا ہے کہ گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کے خلاف کارروائی ابھی زیر ُغور نہیں ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی ممبئی میں ہونے والے مجلس عاملہ کے اجلاس سے پہلے پارٹی کے پارلیمانی بورڈ کے اس اجلاس کو کافی اہمیت دی جا رہی تھی۔ حالیہ عام انتخابات میں شکست اور اب اٹل بہاری واجپئی کے گجرات کے فسادات کے بارے میں بیانات کے بعد قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ اس اجلاس کے دوران ریاست گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کے مستقبل کے بارے میں اہم فیصلہ بھی ہو سکتا ہے۔ بی جے پی کے ترجمان مختار عباس نقوی نے اجلاس سے پہلے کہا تھا کہ پارلیمانی بورڈ کے اجلاس میں انتخابات میں شکست کی وجوہات پر بحث کے علاوہ گجرات میں ہونے والے دنگوں پر بھی بات چیت ہوگی۔ بی جے پی کے پارلیمانی بورڈ کے اجلاس کے بعد جون بائیس سے جون چوبیس تک پارٹی کی وفاقی مجلس عاملہ کا اجلاس ہوگا۔ بی جے پی کا پارلیمانی بورڈ پارٹی میں فیصلے کرنے والا سب سے اہم ادارہ ہے اور اس کے نو ارکان ہیں۔ پارلیمانی بورڈ کے ارکان میں پارٹی کے سربراہ ونکایا نائیڈو، سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی، ایل کے اڈوانی، مرلی منوہر جوشی، جسونت سنگھ، سشما سواراج، پرمود مہاجن، ارون جیٹھلی اور شِو راج سنگھ شامل ہیں۔ یاد رہے کہ حال ہی میں سابق وزیر اعظم واجپئی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ بی جے پی کی انتخابات میں ہار کی ایک اہم وجہ گجرات میں ہونے والے فسادات بھی تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس سلسلے میں گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کے بارے میں بھی کوئی فیصلہ ہو سکتا ہے۔ تاہم واجپئی کے مذکورہ بیان نے بی جے پی اور سنگ پریوار میں خاصی ہلچل مچا دی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||