BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 15 June, 2004, 12:31 GMT 17:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واجپئی کا یو ٹرن
نریندر مودی
واجپئی نے آر ایس ایس کی مخالفت کیوں مول لی ہے؟
سابق بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے کہا ہے کہ وہ پہلے بھی گجرات کے وزیر اعلٰی نریندر مودی کے استعفے کے حق میں تھے اور اب بھی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انتخابات میں ان کی جماعت کی شکست کی بڑی وجہ گجرات کے فسادات ہیں۔

سن دو ہزار دو میں گجرات میں بی جے پی کے دور حکومت میں ایک ہزار افراد کی جانیں مذہبی فسادات کی نذر ہوگئیں جن میں سے بیشتر مسلمان تھے۔

انتخابات سے قبل اس مسئلہ پر واجپائی نے کئی مرتبہ نریندر مودی سے خیالات کا تبادلہ کیا۔

اس سے پہلے واجپائی نے صرف یہ کہنے کے علاوہ کہ ’یہ فسادات نہیں ہونے چاہئیں‘ کبھی اس خواہش کا اظہار نہیں کیا کہ نریندر مودی کو وزارت سے الگ کردینا چاہئے۔

بی جے پی حکومت پر یہ تنقید کی جاتی رہی ہے کہ اس نے گجرات کے فسادات پر سست روی سے اپنا رد عمل ظاہر کیا۔ لوگ کہتے ہیں کہ ایسا اس لیے کیا گیا کیونکہ گجرات میں بھی بی جے پی ہی کی حکومت تھی۔

لیکن اب کیا بات ہے جو واجپائی نے اتنے صاف طور پر نریندر مودی کی مخالفت شروع کر کے آر ایس ایس کی مخالفت مول لی ہے؟ وہ بھی ایک ایسی جماعت کی مخالفت جو نظریاتی طور پر بی جے پی کے ساتھ تھی۔

آر ایس ایس نے سابق وزیر اعظم کے اس خیال کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ گجرات میں رہنما تبدیل کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ واجپئی کو اب یہ احساس ہوگیا ہے کہ انتخابات میں ان کی جماعت کی شکست کی وجہ گجرات فسادات ہیں۔

اب نریندر مودی کے خلاف اپنے اس بیان سے واجپئی عوام کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ ابھی بھی اعتدال پسند ہیں اور اگر بھارت کو مستقبل قریب میں مڈ ٹرم انتخابات کی ضرورت پڑی تو وزارت عظمٰی کے لیے وہ بی جے پی کی قیادت میں نیشنل ڈیمو کریٹک الائنس کے بہترین امیدوار ہیں۔

این ڈی اے کے ایک اہم حلیف چندر بابو نائیڈو نے پہلے ہی کہہ دیا ہے کہ گجرات کے فسادات کے باعث ان کی جماعت مسلمانوں کے ووٹ سے محروم ہوگئی۔ نائیڈو
تلگو دیسم پارٹی کے سربراہ ہیں اور یہ جماعت آندھرا پردیش کے انتخابات میں بری طرح ہاری ہے۔

ایک سابق مرکزی وزیر شاہنواز حسین نے بھی کہا ہے کہ گجرات کے فسادات سے مسلمانوں کا اعتبار بی جے پی سے اٹھ گیا ہے۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اگر مستقبل قریب میں نریندر مودی اپنا عہدہ چھوڑ بھی دیں تب بھی یہ ان کی جماعت کا اپنا فیصلہ ہوگا اور اس کا ماضی کے فسادات سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔

واجپئی صاف طور پر یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ وہ اب بھی مرکزی حکومت کی سربراہی کے لیے بہترین امیدوار ہیں۔ یہ بھی صاف ظاہر ہے کہ واجپئی ابھی سیاست چھوڑنے کے موڈ میں نہیں ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد