نریندر مودی کے خلاف اعلانِ بغاوت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گجرات کے وزیرِ اعلیٰ نریندر مودی کے استعفیٰ کا مطالبہ اب زور پکڑتا جا رہا ہے۔ گجرات میں برسرِ اقتدار جماعت بی جے پی کے پچاس سے زائد ارکانِ اسمبلی نے نریندر مودی کے خلاف کھلم کھلا بغاوت کا اعلان کیا ہے اور ان کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ بھارتی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق گجرات میں بی جے پی کے سینیئر رہنما سوریش مہتا بی جے پی کے صدر وینکیا نائیڈو اور پارٹی کے سیکریٹری جنرل سنجے جوشی سے ملے ہیں اور انہیں پارٹی میں مودی کے خلاف ارکانِ پارلیمان کے عدمِ اعتماد کے متعلق آگاہ کیا ہے۔ نریندر مودی کو ہندو بنیاد پرست جماعتوں آر ایس ایس اور وی ایچ پی کی حمایت حاصل رہی ہے اور ان دونوں جماعتوں کا گجرات میں بہت اثر رسوخ ہے۔ لیکن اب ایسا نظر آ رہا ہے کہ ان جماعتوں نے نریندر مودی کی حمایت سے ہاتھ کھینچ لیا ہے۔ گجرات کے فسادات کے بعد ان پر بہت تنقید ہوئی لیکن اس کے بعد ہونے والے ریاستی انتخابات میں انہیں ایک بڑی کامیابی نصیب ہوئی۔ حالیہ انتخابات میں بی جے پی کو گجرات میں سخت ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے کیونکہ وہ یہاں سے صرف چودہ سیٹیں جیت پائی ہے۔ اب ماضی میں ان کی حمایت کرنے والے ان سے نالاں ہیں اور ان کے حکومت کرنے کے طریقۂ کار کو آمرانہ کہا جا رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||