BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 26 May, 2004, 17:29 GMT 22:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھارتی حکومت کو چیلنجوں کا سامنا

News image
ہندوستان میں کانگریس کی زیرقیادت نئی حکومت کو کئی چیلینجوں کا سامنا ہے۔نئی حکومت نے گزشتہ دور کے کچھ واقعات اور معاملات پرازسر نو غور و فکر کے اشارے دیئے ہیں۔

نئی کابینہ کے مختلف وزراء نے اپنے اپنے محکمے میں این ڈی اے کی حکومت کے دور میں وقوع پذیر ہونے والے معاملات کو از سر نو جائزہ لینے کی بات کر رہے ہیں ۔

نئی حکومت کے لیے سب سے پہلا چیلنج انسداد دہشت گردی قانون یعنی پوٹا پر اپنی حکمت عملی واضح کرنا ہے۔

کانگریس اور اسکی اتحادی جماعتوں نے پوٹا کی سخت مخالفت کی تھی۔ این ڈی اے حکومت نے تمام تر مخالفت کے باوجود پوٹا کو پارلیمان سے منظور کروالیا تھا۔

نئی حکومت کی کچھ اتحادی جماعتوں نے اشارے دیے ہیں کہ اس متنازعہ قانون کو ختم کر دیا جائے گا۔ نئی حکومت کا کہنا ہے کہ اس قانون کے متعلق فیصلہ غور وفکر کے بعد ہی کیا جائے گا۔

ماضی میں موجودہ حکومت کی اتحادی جماعتوں نے پچھلی حکومت کی تعلیمی اور ثقافتی پالیسی کی مخالفت اس بناد پر کی تھی کہ بی جے پی تعلیم اور ثقافت کو ہندوتوا کے رنگ میں رنگنے کی کوشش کر رہی ہے ۔

انسانی وسائل کے نئے وزیر ارجن سنگھ نے کہا ہے کہ تعلیم کے بھگوا کرن (ہندومت کے پرچار) کا نئے سرے سے جائزہ لیں گے۔

وزیر ثقافت مسٹر جے پال ریڈی نے کہا ہے کہ ہے کہ موجودہ حکومت ہندوستانی تہذیب و ثقافتی وراثت کو صحیح تناظر میں پیش کریگی۔ اور بھگواکرن کی جگہ سائنسی سوچ اور نظریہ کو ترجیح دیگی۔

اطلاعات ہیں کہ مرکزی وزارت داخلہ بابری مسجد کے منہدم کرنے سے متعلق سے تمام بند فائلیں بھی دوبارہ کھولنے پر غور کر رہی ہے۔

وزیر مملکت پرکاش جیسوال کا کہنا ہے کہ انکی وزارت لعل کرشن اڈوانی، مرلی منوہرجوشی اور اوما بھارتی کو بابری مسجد کے معاملے میں ہائی کورٹ سے رعایت ملنے کے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے پر غور کر رہی ہے۔

کانگریس اور بی جےپی کے درمیان اس بات کے حوالے سے تکرار ہوتی رہی ہے کہ آیا اڈوانی، جوشی اور اوما بھارتی کے خلاف مقدمہ جان بوجھ کر کمزور کیا گیاتھا یا نہیں؟

نئے ریلوے کے وزیر لالو پرساد یادیو نے ریاست گجرات میں ہوئےگودھرا سانحے کے متعلق مہینوں سے دبی فائل دوبارہ کھولنے کے احکامات جاری کردیۓ ہیں۔

لالو پرساد نے احکامات جاری کیے ہیں کہ گودھرا کے بارے میں تفتیش کی رپورٹ ان کے سامنے پیش کی جائے۔

گودھرا واقعے کو ہوئے دو سال ہو چکے ہیں لیکن ا بھی تک اس حادثے کی وجوہات پر سے پردہ نہیں اٹھایا گیا ہے۔

سابق وزیر ریلوے نتیش کمار نے تفتیش کوعوام کے سامنے ظاہر کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے گودرا کے واقع کی تفتیشی رپورٹ کے سامنے آنے سے گجرات کے وزیراعلی نریندر مودی کی پریشانیوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

وزیر دفاع پرناب مکرجی کے سامنے بھی گزشتہ حکومت کے دوران ہوئی بد عنوانی کے کئی معاملات زیر غور ہیں۔

نئی حکومت نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ مستقبل میں دفاع کے متعلق جو بھی خرید وفرخت کو شفاف بنایا جائے گا۔

کانگریس اور اسکی کچھ اتحادی جماعتوں نے سابق وزیر دفاع جارج فرنانڈس کا پارلیمان میں مستقل بایئکاٹ کیا تھا۔

اگرچہ وزارت دفاع نے کوئی بیان تو نہیں دیا ہے لیکن امکانات ہیں کہ جارج فرنانڈس کے خلاف الزامات کی از سرنو تفتیش کی جا ئے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد