BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 25 May, 2004, 08:11 GMT 13:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نئی بھارتی کابینہ میں کون کیا؟
بھارت کی نئی اڑسٹھ رکنی کابینہ میں چند اہم وزارتوں پر فائز ہونے والے وزراء۔

من موہن سنگھ

وزیرِاعظم

من موہن سنگھ کی عمر بہتر برس ہے اور وہ بھارت کے سابق وزیر خزانہ بھی رہے ہیں۔ انہیں بھارت میں اقتصادی اصلاحات کے پروگرام کا بانی تصور کیا جاتا ہے۔

من موہن سنگھ بھارتی تاریخ میں وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہونے والے پہلے سکھ سیاستدان ہیں۔

من موہن سنگھ کی معاشی اور انتظامی مہارت پر کم ہی لوگوں کو شبہ ہے البتہ یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ آیا وہ مخلوط حکومت کی قیادت سنبھالنے کے لئے سیاسی ثابت قدمی اور تجربہ کا مظاہرہ کر پائیں گے؟

برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ ڈاکٹر من موہن سنگھ کانگریسی لیڈر سونیا گاندھی کے بااعتماد ہیں۔

شیوراج پٹیل

وزیرِ داخلہ

شیوراج پٹیل کو بھارت کی نئی کابینہ میں وزارتِ داخلہ کا اہم قلمدان دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ بہت سے لوگوں کے لیے حیرانگی کا باعث ہے کیونکہ شیوراج حالیہ الیکشن ہار گئے تھے۔ شیوراج اس سے پہلے لگاتار آٹھ الیکشن جیت چکے ہیں اور ماضی میں وہ بہت سے اہم عہدوں پر فائز رہے ہیں۔

سیاست میں آنے سے پہلے 68 سالہ شیوراج یونیورسٹی میں لیکچرر کے طور پر کام کرتے رہے ہیں۔ شیوراج لوک سبھا کے سپیکر بھی رہے ہیں اور انہوں نے پہلی مرتبہ لوک سبھا کی کارروائی کو براہ راست ٹی وی پر دکھانے کی اجازت بھی دی تھی۔

پرناب مکرجی

وزیرِ دفاع

پرناب مکرجی کو نئی کابینہ میں بطور وزیر دفاع لیا گیا ہے۔ ان کا شمار گاندھی خاندان کے پرانے وفاداروں میں ہوتا ہے۔ اڑسٹھ سالہ مکرجی نے کانگریس پارٹی کے ساتھ پرانی وابستگی کے باوجود اس الیکشن میں پہلی مرتبہ کامیابی حاصل کی ہے۔

پہلی مرتبہ انتخابات میں جیتنے کے باوجود وہ ماضی کی کانگریسی حکومتوں میں اہم عہدوں پر فرائض انجام دے چکے ہیں جن میں خزانہ اور خارجہ کی اہم وزارتیں بھی شامل ہیں۔

پرناب مکرجی اپنی حیران کن یاداشت کی وجہ سے مشہور ہیں۔

نٹور سنگھ

وزیرِ خارجہ

نٹور سنگھ کو کیمبرج یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ اور ایک تجربہ کار سفارت کار ہونے کی بنیاد پر وزارتِ خارجہ کا اہم ترین قلمدان سونپ دیا گیا ہے۔

نٹور سنگھ پاکستان میں بھارت کے سفیر بھی رہ چکے ہیں اور اس کے علاوہ انہوں نے راجیو گاندھی کی کابینہ میں بطور وزیر مملکت کے طور پر کام کیا تھا۔

نٹور سنگھ اچھے مصنف کی حیثیت سے بھی جانے جاتے ہیں۔ وہ ای ایم فاسٹر پر بھی ایک کتاب تحریر کر چکے ہیں۔ نٹور سنگھ کانگریس پارٹی کی خارجہ امور کمیٹی چلا رہے تھے۔

وزارتِ خارجہ کا قلمدان سنبھالنے کے بعد انہیں پاکستان کے ساتھ امن مذاکرات کی ذمہ داری بھی ادا کرنی پڑے گی۔

پی چدمبرم

وزیرِ خزانہ

پی چدمبرم کو نئی کابینہ میں وزیر خزانہ مقرر کیا گیا ہے جو کہ بھارت کی معیشت کے لیے ایک اچھا شگون تصور کیا جا رہا ہے۔ پی چدمبرم ایک نفیس اور خوش گفتار سیاست دان کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

ہاورڈ سے قانون کی تعلیم حاصل کرنے والے اٹھاون سالہ چدمبرم کھلی منڈی اور آزاد تجارت کے حامی ہیں۔

لالو پرساد

وزیرِ ریل

لالو پرساد بھارت کے دلچسپ ترین اور متنازع ترین سیاست دان ہیں۔
لالو پرساد یادیو راشٹریا جنتا دل کے سربراہ ہیں اور بھارت کی ریاست بہار کے وزیر اعلی رہ چکے ہیں۔ اب بہار میں ان کی بیوی رابڑی وزیر اعلی ہیں۔ لالو پرساد کا تعلق متوسط طبقے سے ہے۔ حکومتی بدعنوانیوں کے حوالے سے بھی ان پر الزامات عائد کئے جاتے ہیں۔

شرد پوار

وزیر برائے خوراک و زراعت

شرد پوار نئی کابینہ میں شامل ماہراشٹر کی ریاست سے تعلق رکھنے والے ایک بااثر سیاست دان ہیں۔ چند سال قبل کانگریس کے رہنماوں سے اختلافات کی بنا پر انہوں نے کانگریس سے اپنے آپ کو علیحدہ کر لیا تھا۔ تاہم حالیہ الیکشن میں انہوں نے دوبارہ کانگریس سے اتحاد کرنےفیصلہ کیا۔ ماضی میں وہ وزیرِ دفاع رہے ہیں اور ایک سخت منتظم کے طور پر مشہور ہیں۔

موجودہ کابینہ میں وہ وزارتِ خوراک و زراعت کے شعبے کے وزیر کے طور پر خدمات انجام دیں گے۔

سنیل دت

وزیرِ کھیل

سنیل دت بھارت کی فلمی صنعت کے ایک جانے مانے اداکار ہیں۔ وہ انیس سو ساٹھ اور ستر کی دہائی میں بھارتی فملوں میں ایک مار دھاڑ کرنے والے ہیرو کے طور پر مشہور تھے۔ انہوں نے گزشتہ پانچ انتخابات میں بمبئی سے کانگریس کے امیدوار کی حیثیت سے انتخابات میں مسلسل کامیابی حاصل کی ہے۔


وزیرِ تعلیم

ارجن سنگھ بھارت کے نئے وزیر تعلیم مقرر کئے گئے ہیں۔ ان کا شمار بھی کانگریس کے پرانے حامیوں اور گاندھی خاندان کے وفاداروں میں ہوتا ہے۔

چوہتر سالہ ارجن سنگھ نے انیس سو ساٹھ میں کانگریس پارٹی کی رکنیت اختیار کی تھی اور ماضی میں ریاستی گورنر اور وفاقی وزیر رہ چکے ہیں۔

ارجن سنگھ کانگریس کی سربراہ سونیا گاندھی کے قریبی ترین ساتھیوں میں شامل ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد