پی چدمبرم کی واپسی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے وزیر خزانہ پی چدمبرم کی تعیناتی کاروبار کے لیے ایک اچھی خبر سمجھی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا بھارت پر اعتماد بڑھے گا۔ دھیمے مزاج کے پی چدمبرم نے، جو اپنے اندازِ بیاں کے لیے مشہور ہیں، کھلی منڈی اور عالمی تجارت کے حمایتی کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں، دوسری مرتبہ بھارت کے وزیر خزانہ بنے ہیں۔ اس سے پہلے وہ 1998-1996 میں بھی وزیر خزانہ رہ چکے ہیں۔ جنوبی ہندوستان کی ریاست تامل ناڈو سے تعلق رکھنے والے پی چدمبرم وزیراعظم من موہن سنگھ کے لیے خاصے مددگار ہو سکتے ہیں۔ من موہن سنگھ خود بھی معاشی امور کے ماہر سھمجے جاتے ہیں۔ چند مہینے پہلے تک کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ہاورڈ سے تعلیم یافتہ اٹھاون سالہ پی چدمبرم دوبارہ بھارت کے وزیر خزانہ بن سکیں گے۔ کانگریس پارٹی سے تعلق رکھنے والے پی چدمبرم 1986 میں پہلی دفعہ تامل ناڈو سے پارلیمنٹ کے ممبر بننے کے بعد راجیو گاندھی کی کابینہ میں جونیئر وزیر بنے۔ نرسہما راؤ کی کابینہ میں وزیر تجارت کے عہدے پر فائز ہوئے۔ بعد میں انہوں نےگانگریس پارٹی کو خیر باد کہہ دیا اور تامل منیلا کانگریس میں شمولیت اختیار کر لی۔ موجودہ انتخابات میں انہوں نے ایک بار پھر کانگریس کے امیدوار کے طور پر انتخاب لڑا۔ پی چدمبرم کی رائے میں جن ملکوں میں کھلے مقابلے کا معاشی نظام رائج ہے وہ اپنی غربت کم کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ پی چدمبرم عالمی تجارت کے حامی ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ عالمی تجارتی نظام کے نفاذ سے ترقی پذیر ممالک کو فائدہ پہنچے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||