نریندر مودی: اِک نیا تنازعہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گجرات کے وزیرِاعلیٰ نریندر مودی کو امریکہ کی طرف سے ویزا نہ دیے جانے کا معاملہ ابھی گرم ہی تھا کہ ان کے برطانیہ کے دورے کے بارے میں بھی تنازعہ پیدا ہوگیا ہے۔ نریندر مودی کے پاس برطانیہ کا ویزا ہے اور وہ جمعہ کو لندن کے لیے روانہ ہونے والے ہیں۔ مودی نے کہا ہے کہ وہ سرکاری دورے پر جا رہے ہیں لیکن برطانیہ سے آنے والی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ ان کی وہاں کوئی سرکاری مصروفیات نہیں ہیں۔ سن 2002 کے ہندو مسلم فسادات کے بعد برطانیہ نے نریندر مودی سے ’ کوئی رابطہ نہ رکھنے‘ کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔ برطانیہ کے ہائی کمشنر نے اپنے سفارتی فرائض کے تحت ملک کی ہر ریاست کا دورہ کیا ہے اور وزرائےاعلیٰ سے رابطہ قائم کیا ہے لیکن 2002 کے بعد ہائی کمشنر نے گجرات کا دورہ نہیں کیا ہے۔ برطانیہ نے امریکہ کی طرح اگر چہ نریندر مودی کا ویزا منسوخ نہیں کیا ہے لیکن مودی سے انکے اختلافات اس حقیقت سے عیاں ہیں کہ لندن میں مودی سے برطانیہ کا کوئی بھی اہلکار نہیں ملےگا اور نہ ہی کسی سرکاری ملاقات کا اہتمام کیا گيا ہے۔ وہ اس سے قبل 2003 میں بھی لندن کا دورہ کر چکے ہیں۔ یوروپی یونین کے دوسرے ممالک کی طرح برطانیہ بھی نریندر مودی سے کوئی تعلق نہ رکھنے کی سخت پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ گجرات کے سرکاری ذرائع کے مطابق مودی لندن میں یوم گجرات کی تقریبات میں شرکت کریں گے ۔ لیکن انہیں کس نے مدعوکیا ہے یہ واضح نہیں ہے۔ دوسری جانب برطانیہ کی حقوق انسانی کی بعض تنظیمیں ان کے لندن پہنچنے پر نسل کشی کے الزام میں مقدمہ دائر کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||