ویزا نہ دینے پر بھارتی احتجاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی حکومت نے امریکہ سے نریندرا مودی کو ویزا نہ دینے کے بارے میں اپنے فیصلہ پرنظر ثانی کرنے کا مطالبہ کرئے۔ بھارتی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ نریندرا مودی کو ویزہ نہ دینے کا فیصلہ غیر ضروری ہے اور یہ عوام کے منتخب نمائندوں کے ساتھ نامناسب رویہ ہے۔ حقوق انسانی کی تنظیموں کی طرف سے زبردست احتجاج کے بعد امریکہ نے گجرات کے وزیرِ اعلی نریندر مودی کا ویزا مسترد کر دیا تھا۔ بھارت میں امریکی سفارت خانے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ نریندرا مودی نے مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کی ہے ان لیے اس کو امریکی جاری ویزہ نہیں کیا گیا۔ نریندر مودی امریکہ کے دورے پر جانے والے تھے۔ دلی میں امریکی سفارتخانے نے نریندر مودی کو ویزا جاری نہ کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ جس مقصد کے لیے امریکہ جانا چاہتے تھے اس کے لیے سفارتی ویزا جاری نہیں کیا جا سکتا ۔ وہ امریکہ میں آباد گجراتی ہندوؤں کی دعوت پر وہاں جارہے تھے۔ امریکہ کے ایوان نمائندگان یعنی کانگریس میں دو ارا کینِ کانگریس نے مودی کے خلاف ایک قرارداد پیش کی تھی جس میں امریکہ سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ مسٹر مودی کی مذمت کرے کیوں کہ وہ بقول ان کے اقلیتوں کی مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کے قصوروار ہیں۔ قرارداد میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ نریندر مودی کے دورِ اقتدار میں ہزاروں مسلمانوں کے قتل عام کے قصورواروں کو دانستہ طور پر سزائيں نہیں دی گئیں جب کہ سینکڑوں عیسائی مذہبی رہنماؤں پر حملے کیے گئے اور انکی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچایا گیا۔ اس سے قبل امریکہ کی وزارت خارجہ کی بین الاقوامی تعلقات کی کمیٹی نے ایک رپورٹ کا بھی جائزہ لیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ نریندر مودی کے حکومتی سکولوں کی نصابی کتابوں میں نازیوں کی تعریف کی جا رہی ہے اور ہٹلر کو ایک ’عظیم قوم پرست‘ اور ’ سپر ہیرو‘ کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ اس رپورٹ میں مودی پر نسلی برتری کے تصور کو فروغ دینے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ امریکہ میں کئی ہندو نژاد انجمنوں اور حقوق انسانی کی تنظیموں نے مسٹر مودی کی مجوزہ آمد کے خلاف مہم چلا رکھی تھی اور امریکی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ مودی کو ویزا نہ دے۔ نریندرمودی نے اس معاملے میں اب تک کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||