BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 28 January, 2005, 12:10 GMT 17:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گجرات فسادات پر ایمنسٹی رپورٹ

گجرات
رپورٹ میں این ڈی اے حکومت پر بھی سخت نکتہ چینی کی گئی ہے
انسانی حقوق کی علمبردار تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے گجرات کے فرقہ وارانہ فسادات پر اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ریاستی حکومت، عدلیہ اور پولیس سب کے سب اقلیتی مسلم طبقے کے افراد کو تشدد اور مظالم سے بچانے اور انہیں انصاف دلانے میں پوری طرح ناکام رہے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بدترین قسم کے فرقہ وارانہ فسادات میں مسلم خواتین کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا تھا لیکن انکی مدد کے بجائے ریاستی پولیس نے مجرموں کو بچانے میں اہم کردار ادا کیاہے۔

ایمنسٹی نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں کئی واقعات کا ذکر کرتے ہوۓ کہا ہے کہ ریاست گجرات میں حقوق انسانی کی پامالیاں ہوتی رہیں، خواتین کے ساتھ جنسی زیادتیاں ہوتی رہیں لیکن ریاستی حکومت نہ تو متاثرین کو کسی بھی طرح کا کوئی تحفظ فراہم کر سکی اور نہ ہی وہ مجرموں کو سزا دلانے میں کامیاب ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق ایسے کافی ثبوت ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف فرقہ وارانہ فسادات میں حکومت اور پولیس کی رضامندی شامل تھی۔

اس میں کہا گیا ہے کہ ریاستی حکومت اور انتظامیہ نے ان فسادات کے دوران اپنی ذمہ داریاں اور فرائض تو نہیں پورے کیے لیکن ریاست کی عدلیہ بھی متاثرین کو انصاف دلانے میں ناکام رہی ہے۔

ذیلی عدالتوں نے ثبوت اور گواہوں کو پیش کرنے کا سخت ترین طریقہ اپنایا اور کورٹ کے اندر وہ پرسکون ماحول قائم کرنے میں بھی ناکام رہیں۔ ہائی کورٹ بھی ذیلی عدالتوں کے فیصلوں پر نظرثانی نہیں کر سکی اور نتیجتا متاثرین کو انصاف نہیں مل سکا۔

ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ فساد کے دوران مسلم خواتین کے ساتھ زنا بالجبر،جنسی تشدد جیسی بہت سی گھناؤنی حرکتیں ہوئیں۔ لیکن حکومت ایسی متاثرہ خواتین کو طبی امداد بھی فراہم نہ کر سکی۔ وہ اتنی زیادہ لاپرواہ تھی کہ زیادہ تر معاملات میں متاثرہ افراد یا انکے اہل خانہ کی کسی بھی فورم پر نمائندگی بھی نہیں کی۔

ایسے لوگوں کی آبادکاری پر حکومت نے نہ تو کوئی توجہ دی اور نہ ہی انہیں تسلی دے سکی کی کہ انکے ساتھ ایسے مظالم پھر نہیں ہونگے۔ حد تو یہ کہ اس نے عدلیہ اور قومی حقوق انسانی کمیشن کے ساتھ تعاون بھی نہیں کیا۔

رپورٹ میں اس وقت اٹل بہاری واجپئی کے زیر قیادت این ڈی اے حکومت پر بھی سخت نکتہ چینی کی گئی ہے۔ اسکا کہنا ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی پامالیاں، اور اس سے بھی زیادہ خواتین کے ساتھ جنسی تشدد برپا تھا کہ تمام عالمی قوانین کی دھجیاں اڑ گئیں لیکن وفاقی حکومت چپ چاپ تماشائی بنی رہی۔وفاقی حکومت پر ان تمام زیادتیوں کے روکنے کی ذمہ داری تھی اور اسے اختیارات بھی حاصل تھے لیکن اس نےجان بوجھ کر مداخلت نہیں کی۔

ایمنسٹی نے اپنی رپورٹ میں مسلم خواتین کے ساتھ جنسی زیادتیوں اور تشدد کو بالخصوص اجاگر کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں فرقہ وارانہ فسادات ہوتے رہے ہیں لیکن اس سے قبل خواتین کے ساتھ نازیبا سلوک کے اتنے سنگین معاملات کبھی نہیں ہوئے۔گجرات فسادات میں زنا بالجبر، اجتماعی عصمت دری، جسمانی اذیتیں، عام بھیڑ میں انہیں عریاں کرنا جیسے بہت سے واقعات ہوئے تھے لیکن پولیس اور حکومت نے ان میں سے بیشتر سے آنکھیں چرا لیں۔

اس ضمن میں بلقیس یعقوب رسول کےمعاملے کاخصوصی ذکر ہے۔ بلقیس پانچ ماہ کی حاملہ تھیں۔ ہندو بلوائیوں نے پہلے انکی اجتماعی عصمت دری کی پھر انکے خاندان کی دیگر کئی خواتین کے ساتھ یہی سلوک کیا۔ انکی تین برس کی بیٹی کو زمین پر پٹک کر مار ڈالا۔ انکے خاندان کے کل چودہ افراد انکے سامنے ہلاک کر دیے گئے۔ بلقیس نے اسکی رپورٹ پولیس میں درج کرائی۔ لیکن پولیس نے یہ کہ کر کہ واقعات تو صحیح ہیں تاہم انکا سراغ نہیں مل رہا فائل بند کردی۔

اس ضمن میں ظاہرہ شیخ کے بیسٹ بیکری معاملے کا بھی ذکر ہے کہ کس طرح خوف و دہشت کے ماحول میں عدالت کے اندر ایک خاتون نے اپنا بیان تبدیل کردیا تھا۔

تقریبا سو صفحات پر مشتمل رپورٹ میں بہت سے واقعات کا تفصیلی ذکر ہےاور کہا گيا ہے کہ ریاستی حکومت نے اقلیتی فرقے مسلمانوں کے تحفظ کے لیے کچھ نہیں کیا۔جبکہ آئینی طور پر یہ اسکا فرض تھا۔

ایمنسٹی کی رپورٹ میڈیا اور دیگر اطلاعات و خبروں پر مبنی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے اس نے بارہا ایسی کوششیں کیں کہ وہ خود اسکی تفتیش کرے لیکن بھارت کی حکومت نے کسی بھی بیرونی تنظیم یہاں تک کہ اقوام متحدہ کی حقوق انسانی تنظیم کو بھی اسکی اجازت نہیں دی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد