مذہب کو استعمال کرنے پر پابندی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے انتخابی کمیشن نے متنبہ کیا ہے کہ ان رہنماؤں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی جو انتخابات میں ووٹروں کو راغب کرنے کے لیے مذہب کا استعمال کریں گے ۔ چیف الیکشن کمشنر ٹی ایس کرشنا مورتی نے سیاسی جماعتوں کو متنبہ کرتے ہوۓ کہا کہ گودھرا کے بارے میں جسٹس یوسی بینرجی کی رپورٹ کو کوئ بھی سیاسی رنگ دینے کی کوشش نہ کرے۔ انہوں نے کہا کمیشن ان خبروں کا جائزہ لے رہا ہے کہ ریلوے کے وزیر لالو پرساد یادو نے گودھرا رپورٹ کی بنیاد پر بعض انتخابی جلوسوں میں گودھرا کے واقع کے لیے بی جے پی اور آر ایس ایس کو ذمے دار قرار دیا تھا ۔ جسٹس بینرجی نے ایک عبوری رپوٹ میں کہا ہے 27 فروری 2002 میں گودھرا میں سابر متی ایکسپریس میں لگنے والی آگ محض حادثاتی تھی اور اس میں کسی سازش کا کوئی ثبوت نہیں ہے ۔ اس معاملے میں گجرات حکومت نے تقریبا سو مسلمانوں کے خلاف انسداد دہشت گردی کے تحت مقدمہ درج کر رکھا تھا اور تقریبا سو افراد دو برس سے زیادہ سے قید میں ہیں ۔ گجرات حکومت کا کہنا ہے کہ گودھرا کا یہ واقع شہر کے مسلمانوں کی سازش کا نتیجہ تھا اور اس میں دہشت گرد بھی ملوث تھے ۔ اس واقع میں ٹرین میں آگ لگنے سے 59 ہندو کارسیوک زندہ جل کر ہلاک ہو گۓ تھے ۔ مسٹر موتی نے کہا کہ کسی کو بھی سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے مذہب کے استعمال کی اجازت نہیں ملے گي ۔ کمیشن نے سیاسی رہنماؤں سے اپیل کی ہے کہ وہ بہترین جمہوریت اور اعلی انتظامیہ کے تصور کو سمجھیں ۔ انتخابی مہم میں اپنی توجہ ترقیاتی موضوعات پر مرکوز رکھیں ۔ ادھر جسٹس بینرجی کی گودھرا رپورٹ مرکزی حکومت اور گجرات انتظامیہ کے درمیاں ایک بڑے تنازع کا سبب بنتی جارہی ہے ۔ بی جے پی نے الزام لگایا ہے کہ جسٹس بینرجی تحقیقی کمیٹی نے گودھرا کے واقع کی جانچ کرنے والے اعلی پولیس اہلکاروں سے بات چیت کی ۔ جب کہ مسٹر لالو پرساد یادو کہ کہنا ہے کہ تحقیقاتی کمیٹی نے ان اہلکاروں کو جھوٹا نوٹس دیا ہے لیکن وہ کمیٹی کے سامنے حاضری دیں ۔مسٹر یادو نے متنبہ کیا ہے کہ اگر ان اہلکاروں نے جسٹس بینرجی کے سمن پر عمل نہیں کیا توتحقیقاتی کمیٹی ان کے ساتھ سختی سے پیش آئے گا ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||