عراق کیلیے انتخابی مشاہدین سے انکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی حکومت نے عراق میں آئندہ ہونے والے انتخابات میں ہندوستانی مشاہدین بھیجنے سے انکار کیا ہے۔ بائیں بازو کی جماعتوں کے سرکردہ رہنماؤں نے وزیراعظم منموہن سنگھ سے ملاقات کے بعد بتایا کہ حکومت اس بات سے پوری طرح متفق ہے کہ عراق میں انتخابات کے لیے ہندوستانی آبزرور یا مشاہدین نہیں بھیجے جائیں گے۔ کمیونسٹ رہنما ایبونی رائے نے کہا کہ چونکہ اقوام متحدہ نے درخواست کی ہے اس لیے اگر عراقی افسران انتخابات کے تعلق سے ہندوستان تربیت کے لیے آئیں تو انہیں تمام سہولتیں فراہم کی جائینگی۔ کچھ روز قبل ہی امریکہ کی معاون وزیر خارجہ کرسٹینا روکا ہندوستان آئی تھیں جس کے بعد اب بھارت کے چیف الیکشن کمشنر ٹی ایس کرشنا مورتی جمعرات کو امریکہ کے دورے پر گئے ہیں اس پورے تناظر میں اس طرح کی خبریں عام ہوئیں تھیں کہ شاید عراق میں انتخابات کے دوران ہندوستانی مشاہدین بھیجے جائیں۔ کمیونسٹ جماعتیں اسکی سخت مخالف تھیں اور حکومت نے انہی کے دباؤ میں یہ فیصلہ کیا ہے۔ چند ماہ قبل بھی اس طرح کی خبریں عام ہوئیں تھیں کہ حکومت عراق فوج بھیجنے کا ارادہ رکھتی ہے لیکن حزب اختلاف کی شدید مخالفت کے بعد حکومت نے اس کی واضح تردید کر دی۔ بائیں بازو کے رہنماؤ نے بتایا کہ ملاقات کے دوران قومی سلامتی کے مشیر جے این دیکشت سے بھی بات چیت ہوئی اور انہوں نے خارجہ امور کے بارے میں حکومت کی پالیسیوں سے آگاہ کیا اور بات چیت میں ایران و افغانستان کی صورت حال پر بھی گفتگو ہوئی۔ کمیونسٹ رہنماؤں کے مطابق اسرائیل اور ہندوستان کے درمیان موجودہ رشتوں کا خصوصی طور پو ذکر ہوا۔ واجپئی حکومت کے دوران ہندوستان کے تعلقات اسرائیل سے بہت اچھے تھے۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ واجپئی حکومت کا جھکاؤ عرب ممالک کے بہ نسبت اسرائیل کی طرف زیادہ تھا۔ بائیں بازو کی جماعتوں نے وزیراعظم منموہن سنگھ پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کے بارے میں ہندوستان کی خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کریں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||