’گواہ کو رشوت نہیں دی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن اسمبلی مدھو شری واستو نے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ انہوں نے بیسٹ بیکری کیس میں ظاہرہ شیخ کو اپنا بیان بدلنے کے لئے 18 لاکھ روپے دئے ہیں۔ گجرات کے فسادات میں ایک واقعے میں برودہ میں واقع بیسٹ بیکری میں بارہ مسلمانوں سمیت چودہ افراد کو مبینہ انتہا پسند ہندؤوں نے جلا کر مار دیا تھا۔ اس کیس میں ظاہرہ شیخ مرکزی گواہ ہیں جنہوں نے حال میں اپنا بیان تبدیل کرلیا تھا۔
مسٹر شری واستو نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ظاہرہ کو نہ جانتے ہیں اور نہ ہی وہ اس سے کبھی ملے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ رشوت دینے کا الزام سرا سر جھوٹا ہے۔ اس سے قبل ہفتہ وار اخبار تہلکہ نے ایک خفیہ فلم جاری کی جس میں مدھو شری واستو اور بعض دیگر افراد کی بات چیت خفیہ طریقے سے ریکارڈ کی گئی تھی۔ فلم میں ان افراد کی بات چیت سے پتہ چلتا ہے کہ بیسٹ بیکری کی مرکزی گواہ ظاہرہ شیخ کو بیان بدلنے کے لئے 18 لاکھ روپے دئے گئے اور اسے دھمکی بھی دی گئی تھی۔
مسٹر شری واستو نے کہا کہ خفیہ فلم میں تصویر ان کی ہے لیکن آواز کسی اور کی ہے۔ تہلکہ نے خفیہ فلم ایک مہینے کے آپریشن کے بعد تیار کی ہے ۔ اخبار کے مدیر اعلی ترُن تیج پال کا کہنا ہے کہ اس خفیہ آپریشن سے ثابت ہو تا ہے کہ اس طرح کا اسٹنگ آپریشن کتنا ضروری ہے کیوں کہ اس میں ہر چیز ریکارڈ پر ہے اور کوئی پورے طور پر تردید نہیں کر سکتا۔ لیکن ممبئی میں ظاہرہ شیخ نے نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے تہلکہ کے الزام کو بے بنیاد قرار دیا ہے ۔ ظاہرہ نے کہا کہ وہ مسٹر شری واستو کو نہیں جانتی اور نہ ہی وہ ان سے کبھی ملی ہیں ۔ ظاہرہ نے کہا اس نے کبھی کوئی پیسہ نہیں لیا۔ ظاہرہ شیخ نے 3 نومبر کو اپنا بیان اچانک بدل دیا تھا اور اپنی مدد کرنے والی سماجی کارکن تیستا ستلواڈ پر بھی الزام لگا دیا کہ انہوں نے دباؤ ڈال کر ملزموں کی شنا خت کروائی تھی۔ ایک پرہجوم پرئس کانفرنس میں تہلکہ کےمدیر اعلی ترُن تیج پال نے کہا کہ بیسٹ بیکری کا مقدمہ ہندورستان کی تاریخ میں بہت اہمیت کا حامل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس فلم سے ہندوستان کے نظام عدل کے بارے میں بہت سے بنیادی سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ تہلکہ نے اس فلم میں ظاہرہ کی نانی کوبھی پیش کیا ہے جو بیسٹ بیکری کو جلائے جانے کے وقت ظاہرہ کے ساتھ وہاں موجود تھیں۔ مسٹر تیج پال نے سوال کیا ہے کہ ایک عینی شاہد کو اس مقدمہ میں گواہ کیوں نہیں بنایا گیا۔ تہلکہ کے اس انکشاف کے بعد ایک بات یقینی ہے کہ اس معاملے میں یا تو تہلکہ پر جھوٹے الزامات لگانے کا معاملہ ثابت ہوگا یا پھر اس فلم میں دکھائے گئے الزامات صحیح ثابت ہوں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||