بیسٹ بیکری: سماعت شروع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گجرات کے بیسٹ بیکری مقدمے کی ازسر نو سماعت ممبئی کی ایک عدالت میں جمعرات سے شروع ہوگئی ہے۔ دو برس قبل گجرات کے شہر بڑودہ میں بلوائیوں نے فسادات کے دوران بیسٹ بیکری میں آگ لگا دی تھی جس میں چودہ افراد جل کر ہلاک ہوگۓ تھے۔ اس سے قبل اسی مقدمے کی سماعت گجرات کی ایک مقامی عدالت میں ہوئی تھی لیکن اس معاملے کے تمام اکیس ملزمان کو ثبوت کی کمی کے سبب بری کر دیا گيا تھا۔ مقامی عدالت کے اس فیصلے کے بعد اس مقدمے کی اصل گواہ ظہیرہ شیخ نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی کہ بیسٹ بیکری کیس کی سماعت گجرات سے باہر کسی دوسری عدالت میں کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض ملزمان کی جانب سے گواہوں کو دھمکیاں دی جارہی ہیں اور انہیں گجرات میں انصاف نہیں مل سکتا۔ ظہیرہ کی اپیل کے بعد ہی سپریم کورٹ نے اس مقدمے کو پڑوسی ریاست مہاراشٹرر منتقل کرنے کے احکامات دیے تھے۔ بعد میں ریاست گجرات اور مہاراشٹرر کے درمیان اس بات پر بھی اختلافات اٹھ کھڑے ہوئے تھے کہ اس مقدمے کا سرکاری وکیل کون مقرر کرے گا۔ اس مسئلے پر بھی سپریم کورٹ ہی کو مداخلت کرنی پڑی اور بالآخر سپریم کورٹ نے گجرات کے ذریعے مقرر کردہ وکیلوں کے بجائے ان دو وکیلوں کو متعین کیا ہے جن پر ظہیرہ شیخ نے اطمینان کا اظہار کیا تھا۔ بیسٹ بیکری مقدمے میں کل اکیس ملزم ہیں جن میں سے صرف چودہ ملزمان ہی کو گرفتار کیا جاسکا ہے جبکہ سات اب بھی فرار ہیں ہیں۔ عدالت نے ان کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اس سلسلے میں گجرات پولیس کو بھی نوٹس دیا ہے۔ فروری دو ہزار دو میں گودھرا میں ٹرین کے ایک ڈبے میں مبینہ طور پر مسلمانوں کے ایک ہجوم نے آگ لگا دی تھی جس میں تقریبا ساٹھ ہندو کارسیوک زندہ جل کر ہلاک ہوگۓ تھے۔ اس بہیمانہ واقعہ کے بعد پوری ریاست میں مسلم مخالف فسادات بھڑک اٹھے تھے جن میں تقریبا دو ہزار مسلمان مارے گۓ تھے ان واقعات کے لۓ ابھی تک کسی کو بھی سزا نہیں ہو ئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||