بیکری کیس، دوبارہ سماعت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی سپریم کورٹ نے مغربی ریاست گجرات میں دو سال قبل ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کے دوران پیش آنے والے ہلاکت خیز واقعہ جو بیسٹ بیکری کیس کے نام سے جانا جاتا ہے ازسرِنو تحقیقات اور مقدمہ چلانے کا حکم دیا ہے۔ بڑودہ شہر میں پیش آنے والے اس واقعہ میں ہندو بلواؤں نے بارہ مسلمانوں کو بیسٹ بیکری کے اندر زندہ جلا دیا تھا۔ ان فسادات کے دوران ایک ہزار سے زیادہ افراد مارے گئے تھے جن میں سے اکثریت مسلمانوں کی تھی۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ اب یہ مقدمہ ریاست مہاراشٹر میں چلایا جائے۔ یہ تاریخی فیصلہ اس مقدمہ کی اہم گواہ ظاہرہ شیخ کی درخواست کی سماعت کے دوران دیا گیا ہے۔ مسمات ظاہرہ شیخ نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ گجرات کی عدالت میں انہوں نے غلط بیانی کی تھی کیونکہ انہیں ریاست میں حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے اعلیٰ عہدیداروں نے دھمکایا تھا۔ اس کے بعد کئی گواہان نے اس مقدمہ سے اپنے نام واپس لے لیے تھے جس کے نتیجہ میں گزشتہ سال جون میں عدالت نے اس مقدمہ کے اکیس ہندو ملزمان کو عدم ثبوت کی بنا پر رہا کر دیا تھا۔ گجرات عدالت کے اس فیصلہ پر بھارتی حقوقِ انسانی کمیشن نے کڑی تنقید کرتے ہوئے مقدمہ کی دوبارہ سماعت کا مطالبہ کیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||