بیسٹ بیکری: ’سی بی آئی تفتیش کرے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بیسٹ بیکری کیس سے وابستہ سماجی کار کن تیستا سیتل واڈ نے سپریم کورٹ میں اس معاملے کی اصل گواہ ظاہرہ شیخ کے بیان بدلنے کی سی بی آئی یعنی مرکزی تفتیشی بیورو سے تفتیش کے لیے عرضی دی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اچانک بیان تبدیل کرنے کی کچھ وجوہات ضرور ہوں گی اس لیے اسکی تفتیش ہونی چاہیئے۔ محترمہ سیتل واڈ نے اپنی درخواست میں ظاہرہ شیخ کے کئی حلف ناموں کا ذکر کیاہے جس پر سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے اس مقدمے کو ریاست مہاراشٹر منتقل کیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا ہے کہ جب ظاہرہ نے اپنا بیان تبدیل کرنے کے لیے ایک ہوٹل میں پریس کانفرنس کی تو بڑودرہ کے پولیس کمشنر وہاں کیا کر رہے تھے اور اس کانفرنس کا اہتمام آخر کس نے کیا تھا؟ سیتل واڈ نے ظاہرہ شیخ کے اس بیان کو بھی پوری طرح بے بنیاد بتایا ہے کہ حلف نامے انگریزی میں تھے۔ انہوں نے کہا کہ ظاہرہ شیخ کے دستخط سے قبل سبھی حلف ناموں کا ہندی میں ترجمہ کیا گيا تھا۔ بی بی سی سے بات چیت میں تیستا نے کہا کہ ظاہرہ شیخ کے تمام الزمات بے بنیاد ہیں لیکن اگر ضرورت ہو معاملے کو شفاف رکھنے کے لیے سیٹیزنز فار جسٹس سے بھی پوچھ گچھ ہونی چاہیے تاکہ اس پورے معاملے کی حقیقت سامنے آجائے۔ دوبرس قبل گجرات کے فرقہ وارانہ فسادات کے دوران بیسٹ بیکری میں آگ لگا دی گئی تھی جس میں چودہ افراد جل کرہلاک ہو گئے تھے۔ ہلاک ہونے والے زیادہ تر ظاہرہ کے رشتے دار تھے۔ گجرات کی ایک فاسٹ ٹریک عدالت نے ناکافی شہادت کے سبب تمام ملزمان کو بری کردیا تھا۔اس مقدمے کی اصل گواہ ظاہرہ شیخ نے بعد میں انکشاف کیا تھا کہ ملزموں کی دھمکیوں کے سبب انہوں نے عدالت میں گواہی نہیں دی تھی جس کے بعد سپریم کورٹ نے اس معاملے کی ازسر نو سنوائی کے لیے ریاست مہاراشٹر منتقل کردیا تھا۔ ممبئی کی ایک خصوصی عدالت میں اس کیس کی سماعت تیزی سے جاری تھی کہ اپنی گواہی سے ذرا پہلے ظاہرہ نے اچانک ایک پریس کانفرس میں کہا کہ غیر سرکاری تنظیم سیٹزنز فار جسٹس ان پر دباؤ ڈال کر ملزموں کے خلاف گواہی دینے کو کہہ رہی ہے۔ظاہرہ نے کہا ہے کہ انکا پہلا بیان ہی درست تھا لیکن تیستا انہیں جھوٹ بونے پر اکساتی رہی ہیں۔ تیستا سیتل واڈ کی کوششوں کے سبب ہی یہ مقدمہ گجرات سے مہاراشٹر منتقل کیا گیا تھا۔ لیکن اچانک ان تازہ اتار چڑھاؤ کے سبب یہ معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا ہے۔ تیستا نے ایک بار پھر عدلت عظمیٰ کے دروازے پر دستک دی ہے لیکن لگتا ہے کہ اب یہ معاملہ طول پکڑے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||