گجرات فسادات: دستاویزی فلم پر پابندی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں گجرات میں ہونے والے فسادات پر بنائی جانے والی اعزاز یافتہ دستاویزی فلم ’فائنل سولوشن‘ پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ یہ فلم دو ہزار دو میں ہونے والے ہندو مسلم فسادات پر مبنی ہے جس میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ بھارت کے سنسر بورڈ کا کہنا ہے کہ ’یہ انتہائی برانگیختہ کرنے والی ہے اور اس سے مذہبی تعصب اور فرقہ واریت کو ہوا ملے گی‘۔ برلن فلم فیسٹیول میں اس دستاویزی فلم کو اعزاز دیا گیا تھا۔ہانگ کانگ کے فلمی میلے میں بھی اسے اعزاز سے نوازا گیا تھا۔ فلم کے ڈائریکٹر راکیش شرما اس فیصلے کے خلاف عدالت میں اپیل کریں گے۔ بھارت کے سنٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن نے فلم کی نمائش پر مکمل پابندی لگاتے ہوا کہا کہ ’اس فلم کی نمائش سے امن و عامہ کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے جس سے ملکی سکیورٹی کو خطرہ ہوگا۔‘ سنگاپور میں اس فلم کی نمائش پر اسی طرح کی وجوہات کی بنا پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ شرما نے بی بی سی کو بتایا کہ سنسر بورڈ نے یہ بھی کہا ہے کہ فلم سے ایک پڑوسی ملک کے ساتھ تعلقات پر برا اثر پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے سنسر کے الزامات کو ایک بہانہ قرار دیا۔ شرما نے کہا کہ ’لوگ جو نفرت انگیز تقاریر کرتے ہیں ان پر پابندی لگانی چاہیے نہ کہ فلم بنانے والے پر جو اسے ریکارڈ کرتے ہیں۔‘ فائنل سولوشن میں ان واقعات کو دکھایا گیا ہے جن میں ایک ریل گاڑی پر حملے میں انسٹھ ہندو ہلاک ہوگئے تھے۔ اس کے بعد ہونیوالے فسادات میں ایک ہزار سے زائد لوگ مارے گئے جن میں بیشتر مسلمان تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||