گودھرا رپورٹ پر سیاسی تنازع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گودھرا کے واقعے کے بارے میں جسٹس بینرجی تحقیقاتی کمیشن کی عبوری رپورٹ آنے کے بعد یہ رپورٹ اب زبردست سیاسی تنازعہ کا موضوع بن گئی ہے۔ ایک طرف بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس رپورٹ کو سیاسی محرکات پر مبنی قرار دیا اور یہ الزام لگایا کہ اس رپورٹ کا مقصد گودھرا میں ٹرین کے جلنے کے واقعے میں ملوث افراد کو بچانا ہے۔ بی جے پی نے یہ بھی کہا ہے کہ اس رپورٹ کا مقصد آئندہ اسمبلی انتخابات میں مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرنا ہے ۔ دوسری طرف لالو پرساد یادو نے بی جے پی اور اس کی ہمنوا ہندو تنظیموں پر شدید حملہ کرتے ہوئے کہا کہ گودھرا کے واقعے کے لئے خود بی جے پی ذمے دار ہے۔ انہوں نے کہا کہ جسٹس بینرجی کمیٹی کی رپورٹ سے یہ ظاہر ہے کہ کس طرح گجرات کی ہندو تنظیموں نے بقول ان کے افواہ پھیلا کر پوری ریاست میں مسلمانوں کے خلاف فساد برپا کیا۔ مسٹر یادو نے بہار میں انتخابی جلسوں سے خطاب کرتے ہوۓ کہا کہ 27 فروری 2002 میں گودھرا میں ہونے والے اس واقعے میں جو لوگ ملوث تھے انہیں بخشا نہیں جاۓ گا۔ کانگریس نے جسٹس بینرجی کی رپورٹ کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے گجرات کی حکومت بے نقاب ہو چکی ہے۔ اس کے برعکس گجرات پولیس نے دعوی کیا ہے کہ گودھرا کا واقعہ ایک باقاعدہ سازش کے تحت رونما ہوا تھا اور اس میں ملوث افراد کا دہشت گرد تنظیموں سے تعلق ہے ۔ اس واقع کے بعد گودھرا کی پولیس نے سو سے زیادہ افراد کو انسداد دہشت گردی قانون کے تحت جیل میں رکھا ہے۔ جسٹس بینرجی نے اگر اپنی حتمی رپورٹ میں بھی گودھرا کے واقعہ کو محض حادثاتی آگ قرار دیا تو پھر ان افراد کا کیا ہوگا جنہیں گجرات کی پولیس نے دہشتگرد قرار دیا ہے۔ گودھرا کے واقعہ اور اسکے بعد ہونے والے مسلم مخالف فسادات کی جانچ ایک بااختیار کمیشن یعنی ناناوتی شاہ کمیشن کر رہا ہے۔ اگر چہ یہ تحقیقاتی کمیشن اور کمیٹیاں باضابطہ طور پر قائم کی جاتی ہیں لیکن ان کی حیثت محض مشاورتی ہوتی ہے۔ کیوں کہ حکومتیں ان کی رپورٹ کی پابند نہیں ہوتیں ۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ماضی کے تجربات کی روشنی میں اگر دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اقلیتوں کے خلاف ہونے والے فسادات کی جانچ کے لئے بڑے بڑے کمیشن بنائے جا چکے ہیں لیکن آج تک شاید ہی کسی کو سزا ملی ہو۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||