’ہندوتوا ہماری روح ہے‘ بی جے پی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنی جماعت کے وزرائے اعلیٰ کی کانفرنس میں ہندوتوا کے نظریات پر سختی سے کاربند رہنے کا عہد کیا ہے۔ پارٹی نے کہا ہے کہ ہندوتوا کے نظریات اسکی طاقت ہیں اس لیے انہیں کسی بھی صورت میں نہیں چھوڑا جا سکتا۔ دو روزہ کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے صدر وینکیا نائیڈو نے کہا کہ بی جے پی کے لیے قوم پرستی اور ملک کی ترقی دونوں ہی ضروری ہیں۔ مسٹر نائيڈو نے اپنی پارٹی کے وزرائے اعلیٰ سے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد ریاستی حکومتیں کرتی ہیں اس لیےملک کی ترقی میں انکا اہم کردار ہوتا ہے اور اس میں انہیں کسی بھی طرح کی کوتاہی نہیں برتنی چاہیے۔ انہوں نے بی جے پی کے وزراعلیٰ کومشورہ دیا کہ وہ آبادی پر قابو پانے کیلیےموثر اقدامات کریں۔ اس موقع پر مسٹر نائیڈو نے یو پی اے یعنی متحدہ ترقی پسند محاذ حکومت پر اس بات کا الزام عائد کیا کہ مرکزی حکومت ان ریاستوں کے ساتھ جہاں بی جے پی کی حکومتیں ہیں، امتیازی سلوک کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت ٹکراؤ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ کانفرس کے پہلے دن پارٹی کے سرکردہ لیڈر لال کرشن ایڈونی نےبھی خطاب کیا انہوں نے کہا کہ ہندوتوا کے نظریات بی جے پی کی طاقت ہیں اس لیےکسی بھی کار کن کو اس سے دامن بچانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے بلکہ اس پر فخر ہونا چاہیۓ۔ مسٹر ایڈوانی نے کہا کہ مرکزی حکومت ملک کی سلامتی کے بارے میں زیادہ سنجیدہ نہیں ہے اور انسداد دہشت گردی قانون یعنی پوٹا کے خاتمے پر آمادہ ہے۔ کانفرنس میں بی جے پی کے تمام وزراعلیٰ نے اپنی حکومتوں کی کارکردگی کا خاکہ بھی پیش کیا ۔ فی الوقت ملک کی چھ ریاستوں مدھیہ پردیش، راجستھان، چھتیس گڑھ، گجرات، جھارکھنڈ اور گووامیں بی جے پی کی حکومت ہے ۔ بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ کچھ ریاستوں میں جلد ہی اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اور بی جے پی کی اس طرح کی کانفرس کا مقصد دراصل انہیں انتخابات کی تیاری کرنا ہے۔ پارٹی نے ایک بار پھر قوم پرستی، ہندوازم اور ترقیاتی منصوبوں جیسے نعرے دینے شروع کیے ہیں تاکہ کسی نہ کسی طرح وہ اپنے آپ کو سرخیوں میں جگہ بنائے رکھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||