’امریکہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستانی حکومت نے ایک بار پھرامریکہ سے احتجاج کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ وہ نریندر مودی کے ویزامسترد کرنے کے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔ نئی دلی میں ایک امریکی ترجمان کا کہنا ہے کہ ہندوستان کی درخواست وزارت خارجہ کو غوروفکر کے لیے بھیج دی گئی ہے۔ گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کو ویزا مسترد کیے جانے کا معاملہ پارلیمنٹ بھی چھایا رہا اور بالاخر اس معاملے پر خود وزیراعظم کو بیان دینا پڑا۔ مسٹر سنگھ نے کہا کہ اس سلسلے میں امریکی نائب سفیر سے پہلے احتجاج کیاجا چکا ہے اور اس مسئلے پر اختلافات نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا '' امریکہ نے جن وجوہات کا حوالہ دیکر آئینی طور منتخب ایک وزیراعلی کاویزا مسترد کیا ہے اس پر ہماری حکومت نے سخت افسوس اور تشویش ظاہر کی ہے۔ ہم نے امریکہ کو اس بارے میں بتا دیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے'' ۔ مسٹر سنگھ نے مزید کہا کہ سیاسی مفاد سے بالا تر ہوکر انکی حکومت نے اصولوں کی بات کی ہے اور حکومت نے اس معاملے پر جو رویہ اختیار کیا ہے وہ اس سے اصول پسندانہ موقف کی تائید بھی ہوتی ہے۔ ادھر نئی دلی میں امریکی سفارت خانے کے ایک ترجمان ڈیویڈ کینیڈی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فیصلے پر نظرثانی کرنے کی ہندوستانی درخواست وزارت خارجہ کو ازسرنو غور کے لیے بھیجی گئی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس سلسلے میں آج بھی احتجاج کیا ہے۔ خود مودی نے امریکی فیصلے کے خلاف اپنی ریاست میں اتوار کو ایک ریلی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چند روز پہلے تک مودی کو اپنی ہی جماعت کے ارکان سے شدید مخالفت کا سامنا تھا لیکن امریکی ویزا مسترد ہونے کے بعد بی جے پی متحد ہوگئی ہے اور اسے جلسے جلوس کے لیے ایک اور موضوع ہاتھ لگ گیا ہے۔ حقوق انسانی کی تنظیموں کی طرف سے زبردست احتجاج کے بعد امریکہ نے جمعہ کے روز گجرات کے وزیرِ اعلی نریندر مودی کا ویزا مسترد کر دیا تھا۔ نریندر مودی کے دورِ اقتدار میں گجرات کے بدترین قسم کے فرقہ وارانہ فسادات میں ہزاروں مسلمان مارے گئے تھے۔ ان پر الزام ہے کہ انکی انتظامیہ نے قتل عام کے قصورواروں کو دانستہ طور پر بچانے کی کوشش کرتی رہی ہے اور انہیں ابھی تک سزائیں نہیں مل سکیں ہیں۔ امریکہ میں کئی ہندو نژاد انجمنوں اور حقوق انسانی کی تنظیموں نے مسٹر مودی کی مجوزہ آمد کے خلاف مہم چلا رکھی تھی اور امریکی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ مودی کو ویزا نہ دے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||