مودی کا دورۂ برطانیہ منسوخ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گجرات کے وزیرِاعلیٰ نریندر مودی نے مرکزی حکومت کے مشورے کے بعد اپنا دورۂ برطانیہ منسوخ کردیا ہے۔ سرکاری بیان کے مطابق حفاظتی وجوہات کے سبب ایسا کیا گیا ہے لیکن غیر سرکاری تنظمیں جو نریندر مودی کے برطانیہ کے دورے کی سخت مخالف تھیں اس فیصلے پر خوشی ظاہر کی ہے۔ مودی نے لندن پرواز کرنے سے چند گھنٹے قبل اپنا دورہ منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔ ریاستی حکومت کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ وزیرِاعظم منموہن سنگھ اور وزارتِ داخلہ نے ان سے بات چیت کی اور کہا کہ برطانیہ میں ان کی سلامتی کو خطرہ ہے اس لیے وہ اپنا دورہ منسوخ کر دیں تو اچھا ہوگا۔ ترجمان کے مطابق اسی بنا پر مسٹر مودی نے لندن جانے کا اپنا پروگرام منسوخ کردیا۔ مرکزي حکومت نے ان خدشات کا اظہار کیا تھا کہ مودی کے خلاف لندن میں زبردست مظاہرے ہوسکتے ہیں جس کے سبب ان کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ نریندر مودی لندن میں یوم گجرات کے موقع پر گجراتی برادری سے خطاب کے لیے برطانیہ جانے والے تھے لیکن ’ آواز‘ اور ’ساؤتھ ایشیا واچ‘ جیسی غیر سرکاری تنظیموں نے مسٹر مودی کے دورے کی مخالفت میں سخت احتجاج کیا تھا۔ مودی کے دورے کی منسوخی کے بعد ’ آواز‘ کے ایک رکن سریش گرور نے کہا کہ تنظیم چاہتی ہے کہ گجرات فسادات کے لیے جو ذمہ دار ہیں ان کا مواخذہ ہواور فرقہ وارنہ فساد کی وحشت ،دہشت اورمتاثرین کو بھلایا نہ جائے۔ اس سے قبل مودی نے جب یہ اعلان کیا تھا کہ وہ سرکاری دورے پر لندن جانے والے ہیں تو برطانیہ کی جانب سے ایک بیان میں وضاحت کی گئی تھی کہ لندن میں مسٹر مودی کی کوئی سرکاری مصروفیات نہیں ہیں اور ان سے کوئی بھی اہل کار ملاقات نہیں کرے گا۔ گجرات فسادات کے بعد سے ہی برطانیہ مودی کے ساتھ فاصلہ رکھنے کی اپنی پالیسی پر قائم ہے۔ چند روز قبل ہی امریکہ نے مسٹر مودی کا ویزا مسترد کردیا تھا۔ اس کے مطابق گجرات فسادات میں میں مسٹر مودی کا رول مشکوک ہے اور انہوں نے اپنی آئینی زمہ داریاں پوری نہیں کیں۔ وزیر اعلي کی حیثیت سے انہوں نے مجرموں کو سزا دلانے کے بجائے بچانے میں اہم رول ادا کیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||