ظاہرہ جھوٹی ہیں: انکوائری کمیٹی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی سپریم کورٹ کی مقرر کردہ ایک انکوائری کمیٹی نے گجرات کے بیسٹ بیکری مقدموں کی اصل گواہ ظاہرہ شیخ کے بارے میں کہا ہے کہ انہوں نے کئی بار جھوٹ بولا ہے۔ عدالت عالیہ نے یہ کمیٹی اس بات کا پتہ لگانے کے لیے قائم کی تھی کہ ظاہرہ نے عدالت میں اپنے بیانات کیوں بدلے۔ سپریم کورٹ کی ایک دو رکنی بنچ کو پیش کی گئی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ بیان بدلنے کے لیے ظاہرہ کو کسی نے پیسے دیے تھے۔ رپورٹ میں لکھا ہے کہ’ظاہرہ کے اخراجات کے لیے کوئی پیسے دے رہا تھا‘۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ظاہرہ نے کئی بار متضاد بیانات دیے۔ رپورٹ میں سماجی کارکن تیستا سیتل واڈ کا کردار پوری طرح سے صاف پایا گیا ہے۔ ظاہرہ نےایک مرحلے پر یہ الزام عائد کیا تھا کہ تیستا نے اسے اپنے گھر پر زبردستی قید رکھا اور بیسٹ بیکری کے ملزموں کے خلاف زبردستی بیانات دلوائے تھے۔ بیسٹ بیکری کے معاملے میں گجرات کی ایک عدالت نے سبھی 21 ملزموں کو گواہوں کے منحرف ہونے کے سبب رہا کر دیا تھا۔ لیکن سپریم کورٹ نےگزشتہ برس اپریل میں اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے نہ صرف اس مقدمے کی دوبارہ سماعت کا حکم دیا بلکہ اسے مہاراشٹر کی ایک عدالت میں منتقل کر دیا۔ عدالت میں ظاہرہ شیخ اپنے بیان سے منحرف ہوگئیں اور خود اپنا مقدمہ لڑنے والی تیستا پر ہی دباؤ ڈالنے کا الزام لگا دیا۔ اس واقعہ کے بعد ہی عدالت عالیہ نے حقائق کا پتہ لگانے کے لیے رجسٹرار جنرل کی صدارت میں ایک اعلٰی اختیاراتی تحقیقاتی کمیٹی قائم کی تھی۔ سپریم کورٹ نے یہ واضح کیا ہے کہ اس نے تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کو تسلیم نہیں کیا ہے اور اس سلسلے میں ظاہرہ اور تیستا کے وکیلوں سے اس رپورٹ کے بارے میں ان کی رائےمانگی ہے۔ عدالت عالیہ نے اس معاملے کی آئندہ سماعت کے لیے 24 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||