تیتسا کی دولت ناجائز ہے: ظاہرہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گجرات کے بیسٹ بیکری مقدمے کی گواہ ظاہرہ شیخ نے سماجی کارکن تیستا سیتل واڈ کے بینک کھاتوں کے بارے میں تحقیقات کرانے کی درخواست کی ہے۔ ظاہرہ نے سپریم کورٹ میں ایک بیان حلفی داخل کیا ہے جس میں یہ الزام لگایا گیا ہے کہ محترمہ تیستا سیتل واڈ نے ناجائزطریقوں سے دولت جمع کر رکھی ہے۔ تیستا سیتل واڈ ممبئ کی ایک غیر سرکاری تنظیم کی سربراہ ہیں۔ انہوں نے گجرات میں مسلم مخالف فسادات کے بعد پولیس کی تحقیقات اور گواہوں کو درپیش خطرات کی طرف عدالتِ عظمٰی کی توجہ دلائی تھی۔ ان کی کوششوں سے بیسٹ بیکری سمیت کئی اہم مقدمات نہ صرف دوبارہ شروع کیے گئے بلکہ انہیں ریاست گجرات سے دوسری ریاست منتقل کر دیا گیا۔ لیکن ممبئی میں مقدمے کی سماعت شروع ہوتے ہی ظاہرہ شیخ منحرف ہوگئیں اور انہوں نے خود تیستا سیتل واڈ پر ہی الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے دباؤ ڈال کر اس سے ملزموں کے خلاف بیان دلوایا تھا۔ سرکردہ جریدے ’ تہلکہ‘ نے ایک خفیہ ویڈیو گرافی کے بعد یہ الزام عائد کیا تھا کہ ملزموں کی طرف سے ظاہرہ شیخ کو میبنہ طور پر رشوت دی گئی تھی تاکہ وہ منحرف ہوجائیں۔ ظاہرہ نے رشوت لینے کی سختی سے تردید کی ہے ۔ اب ظاہرہ نے عدالت سے یہ درخواست کی ہے کہ تیستا اور ان کے رشتےداروں کے علاوہ حقوق انسانی کے قومی کمیشن کے چیئرمین کے بھی بینک کھاتوں کی جانچ کی جائے ۔ عدالتِ عظمٰی نے ظاہرہ کے منحرف ہونے کے بعد ظاہرہ اور تیستا دونوں کے بیانات کی سچائی جاننے کے لیے تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ یہ تحقیقات سپریم کورٹ کے رجسٹرار کر رہے ہيں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||