ظاہرہ شیخ کو مزید مہلت نہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ نے بیسٹ بیکری کی اصل گواہ ظاہرہ شیخ کو بیان بدلنے کے معاملے میں جواب دینے کے لیے مزید مہلت دینے سےانکار کردیا ہے۔ اس معاملے میں ایک اعلٰی سطح کی کمیٹی تفتیش کر رہی ہے اور جلدہی وہ اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کرنے والی ہے۔ رپورٹ پیش کرنے سے عین قبل ظاہرہ کے وکیل نے سپریم کورٹ سےگزارش کی تھی کہ تفتیشی کمیٹی کو تحریری جواب دینے کے لیے اسے ایک ہفتے کی مزید مہلت دی جائے لیکن سپریم کورٹ نےمزید وقت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ تاہم عدالت عظمٰی نے تفتیشی کمیٹی کو اپنی رپورٹ آئندہ چوبیس اگست تک پیش کرنے کو کہا ہے۔ عدالت نے کہا کہ اس معاملے پر جب سماعت شروع ہوگی تو رپورٹ پرجو بھی اعتراضات ہوں ان کے جواب دیے جا سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ نےاس پر انتیس اگست کو غور کرنے کو کہا ہے۔ گجرات کے فرقہ وارانہ فسادات کے دوران بیسٹ بیکری میں آگ لگا دی گئی تھی۔ اس میں چودہ افراد جل کرہلاک ہو گئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر ظاہرہ کے رشتے دار تھے۔ گجرات کی ایک فاسٹ ٹریک عدالت نے ناکافی شہادت کے سبب بیسٹ بیکری کے تمام ملزمان کو بری کردیا تھا۔ بعد میں اس مقدمے کی اصل گواہ ظاہرہ شیخ نے انکشاف کیا تھا کہ ملزموں کی دھمکیوں کے سبب انہوں نے عدالت میں گواہی نہیں دی تھی۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے اس معاملے کی ازسر نو سنوائی کے لیے اسے ریاست مہاراشٹر منتقل کردیا تھا۔ لیکن ممبئی کی خصوصی عدالت میں بھی ظاہرہ دوبارہ اپنے بیان سے منحرف ہوگئیں تھیں۔ انکا کہنا تھا کہ سماجی کار کن تیستا سیتلواڈ کے کہنے پر انہوں نے بیان بدلا تھااور ان کی پہلی گواہی ہی صحیح تھی۔ سپریم کورٹ نے اسکا سخت نوٹس لیا تھا اور اس پورے معاملے کی تحقیق کا حکم دیا تھا۔ اسکی تفتیش تقریباً پوری ہوچکی ہے اور اس پر جلد سماعت شروع ہوگی۔ تبھی یہ بھی پتہ چل سکے گا کہ ظاہرہ صحیح ہیں یا تیستا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||