فسادات: مودی پر پھر نکتہ چینی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینیئر رہنما اور گجرات کے سابق گورنر سندر سنگھ بھنڈاری نے ریاست میں فرقہ وارانہ فسادات کےحوالے سے وزیراعلی نریندر مودی پر شدید نکتہ چینی کی ہے۔ انہوں نے فسادات کے دوران مسٹر مودی پر کوتاہی برتنے کا الزام عائد کیا ہے۔ تین برس قبل گجرات کے فرقہ وارانہ فسادات کے دوران مسٹر بھنڈاری ریاست کے گورنر تھے۔ انہوں نے بی بی سی سے بات چیت کے دوران کہا ہے کہ وزیراعلیٰ کی حیثیت سے مودی فسادات کا صحیح اندازہ نہ کر سکے ۔ انکا کہنا تھا کہ اس بات کی بھی تحقیقات ہونی چاہیے کہ ان فسادات میں انتظامیہ کا کیا رول رہا ہے۔ اس سے قبل ایک میگزین کے انٹرویو میں مسٹر بھنڈاری نے کہا تھا کہ فسادات پر قابو پانےمیں ریاستی و مرکزی حکومت نے دیر سے قدم اٹھائے تھے۔ انکے مطابق اگر وقت پر کاروائی کی جاتی تو ان پر قابو پالیا جاتا۔ سندر سنگھ بھنڈاری کا شمار بی جے پی کے سخت گیر رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ جس طرح بابائے قوم مہاتما گاندھی کے قتل کو گزشتہ پچاس برسوں سے یاد کیا جاتا رہا ہے گودھرا کو بھی ویسے ہی یاد کیا جاتا رہےگا۔ انہوں نے گجرات فسادات کو پارٹی کے لیے ایک دھبہ کہا۔ کچھ روز قبل پارٹی کے ایک اور سینیئر رہنما پرمود مہاجن نے بھی گجرات فسادات کو بی جے پی کے لیے ایک بدنما داغ کہا تھا۔ بی جے پی کا کہنا ہے کہ گجرات معاملے پر پارٹی کی یہ رائے ہے کہ فسادات سے پارٹی کی شبیہ کو نقصان پہنچا ہے۔ لیکن سیاسی مبصرین کہتے ہیں کہ یہ سب پارٹی کے اندر جاری کشمشکش کا نتیجہ ہے۔ ایک طرف قیادت کا مسئلہ ہے تو دوسری طرف نظریات کا سوال۔ ایسے میں پارٹی کے کچھ سینئر رہنما اس طرح کا بیان دیکر یہ تاثر دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ پارٹی کو اعتدال پسند روئیے کی ضرورت ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||