گجرات فسادات: کتنے ہلاک ہوئے؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی حکومت نے تین سال قبل گجرات میں ہونے والے مذہبی فسادات میں ہلاک ہونے والوں کی تفصیلات بتائی ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان فسادات میں ایک ہزار سے زیادہ افراد مارے گئے تھے جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔ داخلی امور کے وزیر مملکت سری پرکاش جیسوال نے پارلیمنٹ میں ایک تحریری جواب میں بتایا ہے کہ گودھرا کے واقعے کے بعد ریاست بھرکے فسادات میں مجموعی طور پر 790 مسلم اور 258 ہندو مارے گیے تھے۔ دو سو تیس افراد اب بھی لا پتہ ہیں۔ مسٹر جیسوال نے بتایا کہ ہلاکتوں کے علاوہ ڈھائی ہزار سے زیادہ افراد زخمی ہوۓ تھے۔ ان تفصیلات کے مطابق فسادات میں 919 عورتیں بیوہ ہوئیں اورچھ سو سے زیادہ بچے یتیم ہوئے۔ داخلی امور کے وزیر نے اپنے تحریری جواب میں مزید بتایا کہ فسادات سے متاثرہ افراد کی آباد کاری کے لیے ریاستی حکومت نے دو سو کروڑ روپے سے زیادہ کی امداد دی۔ یہ تمام تفصیلات گجرات کی ریاستی حکومت کی فراہم کی ہوئی معلومات کی بنیاد پر دی گئی ہیں۔ گجرات حکومت ابتداء سےیہ کہتی رہی ہے کہ فسادات میں تقریبا ایک ہزار افراد مارے گیے تھے۔ لیکن حقوق انسانی کی تنظیموں اور دیگر غیر سرکاری ادارے ہلاکتوں کی تعداد تقریباً دوہزار بتا تے رہے ہیں۔ یہ تنظیمیں مودی حکومت پر تفریق کا الزام لگاتی رہی ہیں اور انکا کہنا ہے کہ مسلمانوں کی ہلاکتوں کے سلسلے میں ایک بھی ملزم کو سزا نہیں ملی ہے۔گجرات میں احمدآباد سمیت مہسانہ، گودھرا، پنچ محل اور آنند کے متعدد گاؤں میں فسادات کے بعد مسلمان اپنے گھروں کو نہیں لوٹ سکے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||