گجرات مقدمات: پھر سےجائزہ کاحکم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی سپریم کورٹ نے گجرات حکومت سے کہا ہے کہ وہ مسلم مخالف فسادات کے ان دو ہزار سے بھی زائد معاملات کا دوبارہ جائزہ لے جنہیں اس نے بند کر دیا ہے۔ کورٹ نے نریندر مودی کی حکومت سے یہ بھی پوچھا ہے کہ کیا ان معامالات میں مزید تفتیش کی ضرورت ہے۔ عدالت نے ان تمام معاملات کے جائزے کے لئے ریاستی پولیس کے سربراہ کی قیادت میں ایک سیل بھی بنایا ہے اور ڈائرکٹر جنرل کو حکم دیا ہے کہ وہ ہر تین مہینے میں عدالت کو براہ راست رپورٹ پیش کریں کہ اس معاملات میں کیا پیش رفت ہوئی ہے۔ گجرات کے گودھرا شہر میں فروری 2002 میں ٹرین کے ایک ڈبے میں مبینہ طور پو مسلمانوں کے ایک ہجوم نے آگ لگا دی تھی جس میں تقریبا 60 ہندو کار سیوک زندہ ہلاک ہو گۓ تھے۔ اس واقہ کے بعد گجرات میں ہونے والے بدترین مسلم مخالف فسادات میں تقریبا دو ہزار مسلمان مارے گۓ تھے۔ پولیس نے فسادات سے متعلق 4200 معاملے درج کیے تھے جس میں سے 2000 معاملے یہ کہہ کر بند کر دیے کہ ان میں ملزمان کا پتہ نہیں چل سکا۔ عدالت نے گجرات حکومت کو یہ حکم بھی دیا ہے کہ وہ پانچ دن کے اندر ان تمام معاملات کی تفصیلات پیش کرے جس میں ملزموں کو بری کر دیا گیا ہے۔ یہی نہیں وہ یہ بھی بتائے کی حکومت نے کتنے معاملوں میں ملزموں کے خلاف اعلی عدالت میں اپیل دائر کی۔ سخت گیر ہندو تنظیم وشو ہندو پریشد نے مطالبہ کیا ہے کہ جس طرح عدالت نے گجرات کے فسادات سے متعلق دو ہزار معاملات کا دوبارہ جائزہ لینے کا حکم دیا ہے اسی طرح 1984 کے فسادات کے معاملات کو بھی دوبادرہ کھولا جائے۔ انیس سو چوراسی کی اس وقت کی وزیراعظم اندراگاندھی کے قتل کے بعد سکھ مخالف فسادات میں دلّی اور دیگر مقامات پر دو ہزار سے زیادہ سکھ مارے گئے تھے۔ لیکن آج تک ایک بھی شخص کو سزا نہیں ملی ہے۔ جس طرح گجرات میں بی جے پی کی حکومت کو فسادات ک لئےذمےدار ٹھرایا جا رہا ہے اسی طرح سکھ مخالف فسادات میں کانگریس کی حکومت کو موورد الزام ٹھرایا گیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||