ابو سالم کی حوالگی کا حکم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پرتگال کی ایک عدالت نے حکم دیا ہے کہ بھارت کے سب سے زیادہ مطلوب شخص ابو سالم کو بھارت کے حوالے کر دیا جائے۔ ابو سالم انیس سو ترانوے میں ممبئی میں ہونے والے بم دھماکوں میں بھارت کو مطلوب ہیں۔ ان بم دھماکوں میں تقریباً دو سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ ابوسالم پر قتل، اغواء اور جبری وصولی جیسے الزامات کے سلسلے میں بھی مقدمے درج ہیں۔ بھارت کی تفتیشی ایجنسی سینٹرل بیورو آف انویسٹیگیشن کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ لِسبن ہائی کورٹ نے اسی طرح کا حکم پہلے بھی دیا تھا لیکن ابو سالم نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف وہاں کے سپریم کورٹ میں اپیل کی تھی۔ سپریم کورٹ نے اس کیس کو واپس ہائی کورٹ کے حوالے کرتے ہوئے حکم دیا تھا کہ تمام پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے عدالت پھر سے فیصلہ کرے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ابو سالم ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر سکتے ہیں۔ بھارت نے پرتگال کو اس بات کی یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ ابو سالم کو موت کی سزا نہیں دے گا۔ پرتگال کے قانون کے مطابق اگر مطلوب شخص پر ملکی قانون کے تحت مقدمہ چلایا جا سکے تو اس کو دوسرے ملک کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||