سرائے میر، ابو سالم کا آبائی وطن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مافیا ڈان ابوسالم کا تعلق ہندوستان کی شمالی ریاست اتر پردیش کے سرائے میر نامی قصبے سے ہے جو اعظم گڑھ ضلع سے تقریبا 25 کلومیٹر دور واقع ہے۔ ابو سالم کو لزبن سے ہندوستان لانے کی خبر ان کے آبائی قصبے تک پہنچتے ہی پورے قصبے نے خاموشی اختیار کر لی۔ سرائے میر کے باشندوں نے 1984 کے بعد ابو سالم کو علاقے میں نہیں دیکھا ہے اور جن لوگوں کے ذہن میں اس کی چند یادیں بچی ہیں وہ ابو سالم کو یاد نہیں کرنا چاہتے۔ مقامی باشندے ذاتی طور پر ابو سالم سے ناراض تو نظر آئے لیکن گزشتہ برسوں میں جس طرح میڈیا نے ابو سالم کے بارے میں لکھا ہے اس سے وہ میڈیا سے بھی کافی ناراض ہیں۔ مقامی باشندوں نے صاف طور پر میڈیا کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔ کوئی شخص کچھ بھی کہنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس بات کا اندازہ ابو سالم کے سولہ سالہ بھتیجے محمد عارف انصاری کے بیان سے صاف طور پر لگایا جا سکتا ہے۔ عارف کا کہنا تھا کہ’ آپ لوگ ہم سے کیوں بات کرنا چاہتے ہیں جبکہ آپ لوگ وہی لکھیں گے جو آپ چاہتے ہیں‘۔ عارف نے یہ بتانے سے صاف انکار کر دیا کہ ان کے والد یعنی ابو سالم کے بڑے بھائی اور اس کی دادی یعنی ابو سالم کی والدہ اس وقت کہاں ہیں۔ حالانکہ ان کے گھر کے باہر عورتوں اور بچوں کے کپڑے دیکھ کر یہ اندازہ لگانے میں دقت پیش نہیں آئی کہ گھر میں کون کون ہو سکتا ہے۔
عارف نے بمشکل اتنا بتایا کہ اس کی دادی خبر سننے کے بعد کافی غمگین ہوگئی ہیں۔ اس نے کہا کہ ’ آپ لوگ سمجھنے کی کوشش کیوں نہیں کر رہے ہیں کہ بھلے ہی وہ ایک ’انٹرنیشنل کرمنل‘ ہو لیکن وہ شخص ان کی اولاد ہے‘۔ عارف نےان خبروں کو بے بنیاد قرار دیا جس میں کہا جا رہا تھا کہ سرائے میر صرف ابو سالم کے رحم و کرم پر ہے۔ عارف کا کہنا تھا ’ یہاں زندگی اپنے آپ ہی میں بہت کچھ ہے‘۔ ابو سالم کے ایک پڑوسی کا کہنا تھا کہ جو لوگ سالم کو نزدیک سے جانتے ہیں ان کے لیے ان میڈیا میں آنے والی باتوں پر یقین کرنا بےحد مشکل ہے۔ ان کا کہنا تھا’ممبئی جانے سے پہلے وہ عام بچوں کی ہی طرح تھا۔ وہ ایک با اخلاق اور مزاحیہ طبیعت کا شخص تھا‘۔ ابو سالم کے پڑوسی نے بتایا کہ ابو سالم اپنے چچا کی دکان پر کام شروع کرنے سے قبل چند برسوں کے لیے مدرسے میں گیا تھا تاہم اس کے علاوہ اس نے کوئی تعلیم حاصل نہیں کی۔ مقامی باشندوں کے مطابق ابو سالم جب سرائے میر میں تھا تو اس دوران وہ کسی سماج دشمن سرگرمیوں میں ملوث نہیں تھا۔ سالم کے ایک پڑوسی کے مطابق ممبئی پہنچـنے کے بعد جب وہ داؤد ابراہیم کے گینگ میں’شوٹر‘ بن گیا اور اس کا نام فلم ساز گلشن کمار کے قتل میں سامنے آیا اس کے بعد سے ہی اس نے سرائے میر سے تمام تعلقات ختم کر دیے تھے۔ سرائے میر کے ایک سکوں ٹیچر کے مطابق ابوسالم کا آبائی ضلع اعظم گڑھ کسی زمانے میں کیفی اعظمی ، شبلی نعمانی ، ایودھیا سنگھ اوپادھیائے جیسے ادیبوں کے نام سے جانا جاتا تھا وہی اعظم گڑھ آج ممبئی ، دبئي ، ملیشیا اور سنگاپور کو مافیا ڈان اور’شوٹر‘ فراہم کر رہا ہے۔ پورے قصبے پر اگر نظر ڈالیں تو ہر دوسرا مکان آسمان کوچھو رہا تھا۔ تقریبا ہر دوسرے گھر کا ایک کوئی نہ کوئی شخص عرب ممالک یا جنوبی مشرقی ایشیا میں کام کر رہا ہے اور اس بات کا اندازہ اس چھوٹے سے قصبے میں ساٹھ سے زیادہ پبلک ٹیلیفون بوتھوں کی موجودگی سے لگايا جا سکتا ہے۔ مقامی باشندوں کے مطابق مسلمانوں کی اکثریت والے اس علاقے کو سبھی نے نظرانداز کیا ہے۔ اسی وجہ سے لوگ نوکری کی تلاش میں پہلے ممبئی کا رخ کرتے ہیں اور پھر عرب ممالک چلے جاتے ہیں جہاں سے اندازاً انہیں سالانہ 78000 روپے کی آمدنی حاصل ہوتی ہے۔ | اسی بارے میں ابو سالم کون ہے11 November, 2005 | انڈیا ابو سالم کے بعدمونیکا کا ریمانڈ12 November, 2005 | انڈیا ابو سالم ریمانڈ پر پولیس کے حوالے11 November, 2005 | انڈیا ابو سالم اور مونیکا انڈیا کے حوالے10 November, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||