بھارت: بی جے پی کا کنونشن ختم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر لال کرشن اڈوانی نے پارٹی کے تین روزہ سلور جوبلی کنونشن کے اختتام پر کہا ہے کہ پارٹی میں نظریات کی کمی نہیں ہے لیکن چند ذاتی کمزوریاں ضرور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’بی جے پی پچیس برسوں سے ایسے کام کرتی رہی ہے جس پر فخر کیا جا سکے لیکن گزشتہ پچیس ہفتے اسکے لیے بڑے تکلیف دہ رہے ہیں‘۔ پارٹی کےپچیس برس پورے ہونے پر ممبئی میں بی جے پی کا یہ کنونشن ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب وہ کرپشن اور نظریاتی اختلافات جیسے شدید بحران سے دو چار ہے۔ کنونشن کے اختتام پر سابق وزیر اعظم اٹل بہار واجپئی کو جلسے سے خطاب کرنا تھا لیکن طبعیت خراب ہونے کے سبب وہ نہ آسکے۔ اب سے پچیس برس قبل اٹل بہاری واجپئی نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی بنیاد رکھی تھی۔ لیکن اس پورے کنوشن میں واجپئی نے صرف چند منٹ کا خطاب کیا۔ اپنی تقریر میں انہوں صرف یہ اعلان کیا کہ وہ سیاست سے سبکدوش ہورہے ہیں لیکن وہ پارٹی کی خدمت کرتے رہیں گے۔ آخری دن سابق صدر وینکیا نائیڈو نے بھی کارکنوں سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’بی جے پی آج بھی اپنے ہندوتوا کے نظریات پر قائم ہے۔ پارٹی کے لیے رام مندر، کامن سول کوڈ اوردفعہ تین سو ستّر اہم ہیں لیکن اسکے علاوہ بھی کارکنان کو سوچنے کی ضرورت ہے‘۔ سلور جوبلی کنونشن میں شرکت کے لیے ملک بھر سے تقریبا چار ہزار رہنما اور کارکنان ممبئی پہنچے تھے۔ پارٹی کے صدر لال کرشن اڈوانی نے پہلے ہی کہا تھا کہ وہ اس ماہ کی آخری تاریخ کو صدارت سے استعفٰی دے دینگے۔ پارٹی کو ایک نۓ صدر کا بھی انتخاب کرنا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ واجپئی کے صدارتی امید وار راج ناتھ سنگھ ہیں جبکہ اڈوانی وینکیا نائیڈو کو صدر بنانے کے حق میں ہیں۔ لیکن آر ایس ایس یہ عہدہ مرلی منوہر جوشی کو دینا چاہتا ہے۔ اس سلسلے میں قیاس آرائیاں ہیں کہ اس دوڑ میں راج ناتھ سنگھ سب سے آگے ہیں لیکن بازی کون مارے گا اس کا سب کو انتظار ہے۔ |
اسی بارے میں بی جے پی جنرل سیکرٹری مستعفی27 December, 2005 | انڈیا ممبئی میں بی جے پی کا اجلاس26 December, 2005 | انڈیا ممبر پارلیمان رشوت لینے پر معطل12 December, 2005 | انڈیا اوما بھارتی کی پارٹی رکنیت معطل30 November, 2005 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||