ممبئی میں بی جے پی کا اجلاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابق وزیر داخلہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر ایل کے اڈوانی کی سرپرستی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی سلور جوبلی تقریبات کا افتتاح ممبئی میں باندرہ کے رنگ شاردا آڈیٹوریم میں ہوا۔ بحیثت پارٹی صدر کے یہ ان کی آخری تقریرتھی جس میں انہوں نے گزشتہ پچیس برسوں کے طویل سفر کی داستان اور پارٹی کی کامیابیوں کو تفصیل سے بیان کیا۔ پیر کے روز اپنی تقریر میں اڈوانی نے کہا کہ بھارت میں بی جے پی ہی وہ واحد پارٹی ثابت ہوئی جس نے ملک میں ایک جماعتی حکومت کا نظریہ ہی بدل کر رکھ دیا۔ بی جے پی رہنما مرکز میں اٹل بہاری واجپئی کی رہنمائی میں نیشنل ڈیموکریٹِک الائنس کے دورِ اقتدار کی تعریف میں کہا کہ اس کے دور میں بھارت نیو کلیئر پاور بنا اور اقتصادی خوشحالی آئی۔ حیرت انگیز طور پر اڈوانی نے ایک بار بھی نہ تو آر ایس ایس کی ہندوتوا پالیسیوں کا ذکر کیا اور نہ ہی ان چھ اراکین پارلیمنٹ کا ذکر کیا جن پر مبینہ طور پر سوالات پوچھنے کے لئے رشوت لینے کا الزام لگایا گیا ہے۔ پارٹی کی ترقی اور عوام میں مقبولیت کا ذمہ دار وہ اپنی انیس سو نوے کی سومناتھ یاترا کو بتاتے ہیں جو سومناتھ سے شروع ہو کر ایودھیا پہنچی تھی۔ بی جے پی کے صدر نے اپنے چھ روزہ پاکستان کے دورہ کا بھی تذکرہ کیا لیکن اس میں وہ متنازعہ ’جناح بیان‘ کو نظرانداز کر دیا جس میں انہوں نے محمد علی جناح کو سیکولر لیڈر کہا تھا۔ اڈوانی نے بہار انتخابات اور گجرات پریشید الیکشن میں بی جے پی کی کامیابی پو خوشی کا اظہار بھی کیا۔ اڈوانی اپنی تقریر میں متعدد مرتبہ پارٹی میں نظم و نسق، خود اعتمادی، محنت اور لگن اور کام کے تئیں ذمہ داری کو اولیت دینے پر زور دیتے رہے۔ بی جے پی کے سینیئر رہنما پرمود مہاجن نے بی بی سی کو بتایا کہ دو روزہ قومی مجلس عاملہ میں ملک کی سیاسی اقتصادی اور خارجہ پالیسیوں پر غور و فکر کے علاوہ آسام، مغربی بنگال، کیرالہ، تامل ناڈو اور پانڈیچری کے مجوزہ انتخابات پر مستقبل کا لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لئے یہ اجلاس پارٹی کے اندرونی انتشار کو لے کر بھی کافی ہنگامہ خیز رہنے کی امید ہے۔ انہیں اوما بھارتی کا غصہ، انہیں پارٹی سے باہر نکالے جانے پر جہاں پارٹی کے ایک بڑے طبقہ سے تنقید کا سامنا ہے، وہیں ممبران پارلیمنٹ کے رشوت لینے کا معاملہ بھی زیر بحث رہےگا۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی شاید تیس دسمبر کو نئے صدر کے نام کا اعلان کرے گی اور وہ نام اتر پردیش سے تعلق رکھنے والے رہنما راج ناتھ سنگھ کا ہوسکتا ہے۔ ارٹی نے اس موقع پر ’وِویک‘ نامی میگزین کا خصوصی ضمیمہ کا بھی افتتاح کیا اور اس موقع پر آر ایس ایس کے جوائنٹ جنرل سکریٹری مدن داس دیوی نے اڈوانی، واجپئی، پرمود مہاجن اور سینئر لیڈران کی موجودگی میں کہا کہ انہیں پتہ ہے کہ بی جے پی آج بڑی سیاسی پارٹی بن گئی ہے لیکن اسے نہیں بھولنا چاہیے کہ وہ جن سنگھ کی گود سے نکلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج پارٹی اپنے نظریے سے بھٹک گئی ہے لیکن انہیں یقین ہے کہ اگر پارٹی ان نظریات کو ساتھ لے کر چلے گی تو اور مضبوط ہو گی۔ بھارتیہ جنتا پارٹٰی کی بنیاد ممبئی کے اسی ریکلیمشن گراؤنڈ میں پچیس سال قبل ڈالی گئی تھی اور اس موقع پر اٹل بہاری واجپئی، اڈوانی کے علاوہ سی ایم چھاگلہ بھی تھے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے لوک سبھا میں کل دو نشستوں سے شروعات کی اور اس کے ہندتوا کے نظریہ نے اسے مرکز میں اقتدار تک پہنچا دیا۔ | اسی بارے میں ’میری زندگی کا ناقابلِ فراموش ہفتہ‘06 June, 2005 | انڈیا اڈوانی نے کہا کیا تھا؟07 June, 2005 | انڈیا بی جے پی میں جناح بحران جاری04 July, 2005 | انڈیا لعل کرشن اڈوانی کے خلاف مہم تیز 16 July, 2005 | انڈیا ایودھیا: اڈوانی پر فرد جرم عائد28 July, 2005 | انڈیا اڈوانی: روسی رشوت کی تحقیقات02 October, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||