شکیل اختر بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی |  |
 |  مسٹر اڈوانی نے آر ایس ایس کو کسی حد تک خوش کرنے کی کوشش کی ہے |
گجرات کے شہر سورت میں آر ایس ایس کا انتہائی اہم اجلاس جاری ہے۔ آر ایس ایس بی جے پی کے صدر لال کرشن اڈوانی کے پاکستان میں دیے گئے بیانات سے برہم ہے اور بی جے پی کے حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ آر ایس ایس مسٹر اڈوانی کو لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما کے عہدے سے ہٹنے کے لیے کہہ سکتی ہے۔ مسٹر اڈوانی نے اس میٹنگ کے دوران اپنے مشیر اور بی جے پی کے سکریٹری سدھیندر کلکرنی کو ان کے عہدے سے ہٹا کر آر ایس ایس کو کسی حد تک خوش کرنے کی کوشش کی ہے۔ پاکستان میں دیے گئے بیانات کے لیے مسٹر کلکرنی کو ہی ذمےدارقرار دیا جا رہا تھا۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ چند روز قبل مسٹر کلکرنی نے اڈاونی کو ایک خط لکھا تھا جس میں انہوں نے زور دیا تھا کہ بی جے پی کو چاہیے کہ وہ وشو ہندو پریشد جیسی انتہا پسند تنظیموں سے تعلقات ختم کرے اور آر ایس ایس کو اپنے معاملات میں مداخلت نہ کرنے دے۔ یہ خط مسٹر اڈاونی کے دفتر سے کسی نے پریس کو لیک کر دیا۔ یہ معاملہ کلکرنی کے استعفی پر ختم ہوتا ہوا محسوس نہیں ہو رہا۔ بی جے پی اور آر ایس ایس کے ایک سینئر رہنما بھائی مہاویر نے قائد اعظم محمد علی جناح کو سکیولر کہے جانے پر مسٹر اڈوانی کو شدید نکتہ چینی کا نشانہ بنایا تھا۔ اب مسٹر اڈوانی نے بھائی مہاویر سے ایک خط میں پو چھا ہے کہ ’وہ یہ بتایئں کہ اس بیان میں کیا غلط ہے اور میں نے پارٹی کے نظریے سے کہاں انحراف کیا ہے۔‘ اڈوانی کے اس خط سے یہ واضح ہے کہ وہ اب بھی پاکستان میں دیے گئے اپنے بیانات پر نہ صرف قائم ہیں بلکہ اب وہ اس کا دفاع کرنے کے لیے بھی تیار ہیں۔ اس وقت بی جے پی اور آرایس ایس دونوں ہی ایک زبردست اندرونی بحث کے عمل سے گزر رہی ہیں اور آنے والے دنوں میں دونوں کی نظریاتی کشمکش کے بارے میں تصویر واضح ہو سکے گی۔ |