لعل کرشن اڈوانی کے خلاف مہم تیز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حزب اختلاف کے رہنما اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر لعل کرشن اڈوانی پر مستعفی ہونے کے لیے دباؤ بڑھتا جارہا ہے۔ بی جے پی کی ایک حلیف تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ یعنی آر ایس ایس نے انہیں پہلے ہی پارٹی کے صدر کے عہدے سے استعفے کا مشورہ دیا تھا۔ لیکن اب خود بی جے پی کے بھی کئی سینیئر رہنماؤں نے ان سے دونوں عہدے چھوڑنے کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی کے سابق صدر جنا کرشنا مورتی، دِلّی کے سابق وزیراعلیٰ مدن لال کھورانہ اور پیارے لال کھنڈیلوال جیسے سینئیر رہنماؤں نے اڈوانی کے نام خط میں مطالبہ کیا ہے کہ پارٹی کے نظریات، جناح پر اڈوانی کے بیان کا تنازعہ اور ایک شخص کے پاس دو عہدوں جیسے معاملات پر بحث ہونی چاہیے۔ مسٹر کھورانہ نے مسٹر اڈوانی سے دونوں عہدوں سےاستعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انکے مطابق اڈوانی نے آر ایس ایس کے بنیادی نظریات سے کِھلواڑ کیا ہے۔ ان تمام واقعات کے بعد مسٹر اڈوانی اور سابق صدر وینکیا نائیڈو اٹل بہاری واجپئی سے ملنے انکے گھر پہنچے ہیں۔ خبروں کے مطابق اڈوانی پر ہر طرف سے دباؤ بڑھتا جارہا ہے اور یہ رہنما کسی اہم فیصلے سے قبل صلاح و مشورے میں مصروف ہیں۔ اڈوانی کےخلاف مہم بانی پاکستان محمد علی جناح پر ایک بیان سے شروع ہوئی تھی۔ ان کے بیان کے بعد آر ایس ایس اور وی ایچ پی ہی نہیں بلکہ خود بی جے پی کے اکثر لیڈروں نے ناراضگی ظاہر کی تھی۔ اڈوانی نے ایک بار استعفیٰ بھی پیش کیا لیکن بعد میں انہوں نے اپنا فیصلہ واپس لے لیا تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ ایودھیا میں متنازعہ مقام پر حملے کے بعد پورا سنگھ ایک بار پھرمتحد ہوگيا ہے۔ بعض لوگوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایودھیا معاملے کو بی جے پی اسی لیے اٹھا رہی ہے تاکہ مسٹر جناح کے بارے میں بیان سے شروع ہونے والے تنازعہ کو ٹالا جا سکے۔ لیکن آر ایس ایس نے اڈوانی کے بیان کو بنیادی نظریے کے خلاف بتاکر اپنی مہم جاری رکھی تھی۔ اور اب بی جے پی کے رہنما بھی اڈوانی کے خلاف مہم میں شامل ہوگئے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||